اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 619 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 619

۶۲۵ ہیں۔بلکہ جو امور کہ متقی کو حاصل ہیں ان سے آگے اور کمالات کے حاصل کرنے کا طریق قرآن مجید بتا تا ہے جو کہ قرآن مجید کے ساتھ مخصوص ہے اور دنیا کی کسی کتاب میں موجود نہیں اور یہ ایک ہی کمال ایسا ہے کہ اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے کے لئے کافی برہان اور حجت ہے اور نیز اس امر کے لئے بھی کافی ثبوت ہے کہ جو دین یہ کتاب لائی وہ فطرتی مذہب ہے اول تو اس وجہ سے کہ تصنیف مصنف کی ایک عکسی تصویر ہوتی ہے۔پس اگر کوئی مصنف کو نہ جانتا ہو تو تصنیف سے اس کے حال کو بخوبی جان لیتا ہے اور اگر مصنف کو جانتا ہو تو اس سے تصنیف کے حال کو بخوبی دریافت کر لیتا ہے۔پس چونکہ ہم خدا کو جانتے ہیں کہ وہ ذات میں،صفات میں قدرت میں اور سب کمالات میں غیر محدود ہے تو اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ایسے غیر محدود قادر مطلق خدا کی تصنیف اور کتاب کی ہدایت بھی ضروری ہے کہ غیر محدود ہو۔اور اگر محدود ہوتو ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ یہ غیر محدود کی تصنیف نہیں۔بلکہ محدود خدا کی تصنیف ہے جو غلطی سے خدا کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔پس چونکہ ہم ابھی ثابت کر آئے ہیں کہ قرآن مجید ہی وہ ایک کتاب ہے کہ جس کی ہدایت غیر محدود ہے لہذا یہ کسی محدود مخلوق کی کتاب نہیں بلکہ یقیناً یقیناً غیر محدود خدا کی کتاب ہے اور دوم اس وجہ سے کہ سب دنیا جانتی ہے کہ انسان کی طبیعت ایسی ترقی طلب ہے کہ ترقی کے معراج میں کسی خاص زینہ اور پایہ پر ہرگز نہیں ٹھہر سکتی بلکہ آگے ہی آگے چلی جاتی ہے۔جیسا کہ تمدنی وغیرہ ترقیات اس کی شاہد ناطق ہیں۔پس جب انسان کی فطرت غیر محدود ترقی کی قابل اور طالب ہے تو اس کے لئے فطرتی مذہب وہی ہوسکتا ہے جو کہ غیر محدود ترقی کی ہدایتوں کا جامع ہونہ وہ جو کہ ایک محدود ترقی پر پہنچ کر انسانی فطرت کی غیر محدود قابلیت اور غیر متناہی طلب کا خون کر دینے والا ہو۔لَا رَيْبَ فِيهِ اور هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کا تعلق یہاں سے ناظرین کو یہ معلوم ہو گیا کہ لَا رَيْبَ فِيهِ اور هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں یہ تعلق ہے کہ جس کی وجہ سے ایک کو دوسرے کے بعد متصل ذکر کیا گیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ هُدًى لِلْمُتَقِيْنَ ذَلك الكتب لا ريب فیه کی دلیل ہے۔جیسا کہ بھی میں نے بیان کیا ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہے اور نیز میں نے پہلے یہ بھی بتایا ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ علت غائی ہے۔اور لاريب فيه علت صوری اور ذلک الکتب علت مادی اور الم علت فاعلی ہے۔اور ظاہر کہ جس طرح علت فاعلی کے بعد علت مادی کا ہونا ضروری ہے اور مادی کے بعد علت صوری کا ہونا ضروری ہے اسی طرح صوری کے بعد غائی کا ہونا بھی ضروری ہے۔پس یہ دوسری وجہ ہے هُدًى لِلْمُتَقِینَ کے لاریب فیہ کے بعد متصل لانے کی۔