اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 604 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 604

۶۱۰ تمہیں ہرگز نہیں دوں گا۔جنٹلمین نے کہا کہ مولانا کیوں؟ تو مولانا نے جواب دیا کہ تم کنجر ہو اور میں کنجروں کا حرام روپیہ نہیں لے سکتا تو جنٹلمین نے کہا مولا نا ! آپ کو شبہ ہوا ہے۔میں تو آپ کے فلاں دوست کا بیٹا ہوں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ حرام ذریعہ سے جو نقد یا جنس لے لی جاویں اور اس کی ذات میں نجاست و حرمت داخل نہیں ہو جاتی کہ دوسروں کے لئے بھی وہ حرام ہو جائے۔خواہ وہ اسے ناجائز طریقہ پر بھی حاصل کریں بلکہ نا جائز ذریعہ سے حاصل کرنا فعل حرام ہے اور اس کے ذریعہ جو شخص حاصل کرتا ہے۔اس کے لئے یہ حرام نہیں ہوتی۔اس نقدی کو جو شخص خرید کرتا ہے تو وہ حلال چیز اس کی حرام ہوتی ہے۔مگر یہ حرام روپیہ جوشخص جائز طریق پر اپنی حلال چیز دے کر حاصل کرتا ہے۔اس کے لئے یہ روپیہ حلال ہے۔اسی طرح حرام ذریعہ سے کمایا ہوا روپیہ جو کمانے والے کے لئے حرام ہے جب وہ فی سبیل اللہ دیتا ہے تو اس کے لئے حرام ہونے کی وجہ سے اس کے لئے موجب ثواب نہیں ہوتا مگر لینے والوں کو حرام نہیں۔پس استثناء کا جواب یہ ہے کہ ان لوگوں کا وہ روپیہ جو حرام ذرائع سے کمایا ہوا ہو ان کے لئے حرام ہے۔لہذا یہ تعمیر مسجد کے لئے حرام مال دینا ان کے لئے موجب ثواب نہیں مگر لینے والے اور مسجد کے لئے حرام نہیں۔(۳۷-۰۹-۱۱) ۴۹ - کیا بندوق کا شکار حلال ہے؟ استفتاء - فتاویٰ حضرت مرزا غلام احمد صاحب میں مذکور ہے اگر تکبیر پڑھ کر بندوق چلائی جائے اگر جانور ذبح کرنے سے پیشتر مرجاوے تو وہ بغیر ذبح جائز ہے اس کے متعلق کون سی سندات موجود ہیں؟ فتوی: آپ نے گولی کے شکار کے متعلق دریافت کیا ہے تکبیر پڑھ کر گولی سے جوشکار مارا جائے اگر مجبوراً ذبح کرنے سے پہلے مرجاوے تو اس کے قرآن وحدیث سے حلال ہونے کا حسب ذیل ثبوت ہے۔قرآن مجید کے نزول کے وقت اور احادیث کے جمع کے وقت تک بندوق نہ تھی کہ بالخصوص اس کا ذکر ہوتا۔مگر قرآن مجید اور احادیث میں ایسی چیزوں کے ساتھ شکار کر کے حلال ہونے کا ذکر ہے کہ جن پر تکبیر پڑھ کر چلایا جاوے مثلاً شکاری جانوروں پر پرندوں کے متعلق قرآن مجید میں ہی آتا ہے جس کا يَسْتَلُوْنَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ط قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ لا وَمَا عَلَّمْتُمُ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ۔وی (وہ پوچھتے ہیں تجھ سے کہ کیا چیز حلال ہے ان کے لئے کہہ کہ تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔اور جو تم نے سکھلایا ہو شکاری جانوروں میں سے اس حالت میں کہ تم ان کو اپنے لئے شکار کرنا سکھلانے والے ہو۔پھر کھا لوتم میں سے جو کہ انہوں نے تمہارے لئے روکا ہے۔اور اس پر اللہ کا نام لے لیا کرو ) اس آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ شکاری جانوروں کو جب شکار کے لئے تعلیم دی گئی ہو تو ان کو تکبیر پڑھ کر جب چھوڑ دو تو جس شکار کو شکار کریں تو وہ