اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 603 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 603

۶۰۹ -۴۶ کیا مسجد یا رفاہ عام پر زکوۃ خرچ ہو سکتی ہے استفتاء۔کیا مسجد کے لئے پانی کا نلکہ یا اور مسجد کے متعلق کوئی اور رفاہ عام کے کام میں زکوۃ کا پیسہ خرچ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔فتوی: زکوۃ کے مصارف جو قرآن مجید نے خود بیان فرمائے ہیں ان میں مصارف مساجد اور دیگر امور رفاہ عام نہیں ہیں۔دوئم زکوۃ تبھی ادا ہوتی ہے۔جب وہ کسی کو دی جائے۔اور اپنی ملکیت سے نکال کر کسی دوسرے کی ملک بنادی جائے اور جہاں یہ تملیک نہ ہو وہاں زکوۃ کوئی ادا نہیں ہوتی مگر دینے والے کے اپنی ملکیت سے نکال دینے اور مساجد کی ضرورت پر صرف کرنے میں تملیک نہیں۔پس اس سے زکوۃ قطعاً ادا نہیں ہوتی۔(۳۷-۰۵-۰۶ ) ۴۷۔کیا مدعی بر قسم ہے استفتاء۔کیا رسید کے ہوتے ہوئے قسم کا کھلانا جائز ہے یا نہیں۔فتوی: حدیث میں آتا ہے کہ البينة على المدعى واليمين علیٰ من انکر۔جب مدعی کے پاس ثبوت موجود ہو تو اس صورت میں قسم کا دلا نا مدعی پر لازم نہیں آتا۔بلکہ مستم اس شخص کو دلائی جاوے گی جو کہ انکاری ہو۔(۳۷-۵-۱۱) ۴۸ کیا نا جائز کمائی کا روپیہ نیک مصرف پر خرچ ہو سکتا ہے استفتاء۔سودخور، مرتی، گا بجا کر مانگنے والا اگر تعمیر مسجد کے لئے کچھ دے تو اس کا دینا اور مسجد میں تعمیر میں اس کا لگانا جائز ہے یا نہیں۔فتوی: اس مسئلہ میں پہلے بعض علماء کو غلطی لگی ہے اور پچھلے ان کی تقلید میں وہی غلط فتویٰ دیتے چلے آئے ہیں۔انہوں نے یہی سمجھا ہے کہ نا جائز ذریعہ سے جو روپیہ حاصل کیا جاوے وہ نجس حرام ہو جاتا ہے۔اس لئے اگر وہ شخص کسی طرح بھی دوسرے شخص کو وہ روپیہ دے جس شخص کو یہ علم ہے کہ اس کا مال نا جائز کمائی کا ہے تو اس شخص کو اس سے نہ لینا چاہئے۔یہاں تک کہ امرت سر میں ایک مولوی ٹوپیوں کا تاجر تھا۔میں اس کی دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنٹلمین نوجوان نے ایک رومی ٹوپی خریدی جب وہ ٹوپی کو اس کے خانہ میں بند کر کے چلنے لگا تو دوکاندار نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے وہ خانہ لے لیا اور یہ کہتے ہوئے قیمت اس کو واپس کرنے لگا کہ میں