اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 583 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 583

۵۸۹ ۱۳- ایک ہی مسجد میں دوسری با جماعت نماز استفتاء۔ایک خاص احمدی محلہ کا امام الصلوۃ مقرر ہے اور وہ پنجگانہ اوقات میں با قاعدہ امام الصلوۃ ہوتا ہے۔ایسی حالت میں ایک شخص یا اشخاص تساہل یا غفلت کی وجہ سے نماز میں شامل نہیں ہو سکتے تو کیا ان کے لئے جائز ہے کہ وہ دوسری دفعہ نماز جماعت کریں۔یہاں تک کہ یہ حالت عمومیت اختیار کرے۔اگر یہ طریق جائز ہے تو کیا پھر امام الصلوۃ کے مقرر کرنے کی بھی ضرورت رہتی ہے اور آنحالیکہ محلہ میں سے نوے فیصد ایسے ہوں جو جماعت کرا سکتے ہیں۔۲- اگر امام الصلواة بعد نماز درس قرآن مجید دے رہا ہو اور زید آکر دوسری نماز شروع کر دے ایسی حالت میں کہ درس سننے والوں کو قرآت سنائی دے اور قرآت سننے والوں کو درس سنائی دے۔جس سے قرآت اور درس دونوں خلط ملط ہو جائے۔کیا ایسی حالت میں نماز جائز ہے یا کہ نہیں؟ فتوی: مسجد میں دو قسم کی ہوتی ہیں۔محلہ جات اور مساجد گزرا۔۔۔۔پس قسم اول کی بنیاد ہی ایک ایک جماعت کے لئے ہے۔اور قسم دوم کی بنیاد متعدد جماعتوں کے لئے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایک ہی نماز جماعت ہوا کرتی تھی۔دوسری جماعت جو کہ وہاں کے رہنے والوں کے لئے ہو اس کا کہیں ذکر نہیں۔ہاں حدیث میں اس کا ذکر ہے کہ جماعت ہو چکی تھی کہ ایک باہر کا آدمی آیا جس نے نماز ابھی تک ادا نہیں کی تھی تو جب وہ نماز کے لئے اٹھا تو حضور نے ان صحابہ کو جو کہ آپ کے ساتھ (نماز) پڑھ چکے تھے۔فرمایا تم میں سے کوئی ہے جو اپنے بھائی کے اجر میں زیادتی کا موجب بنے یعنی اس کے ساتھ مل کر اس کو باجماعت نماز کا ثواب دلائے۔پس یہ تو ایک صاف عذر کی صورت ہے۔اور جو اس کے ساتھ وہاں کے رہنے والے ملے۔وہ باجماعت نماز ادا کر چکے تھے۔اور اس کے ساتھ جو نماز مل کر پڑھی وہ نفل تھی لیکن وہاں کے رہنے والے پہلی جماعت میں شریک نہ ہوئے ان کی نسبت تو حضور فرماتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں اقامت کہلا کر جماعت کھڑی کر دوں۔اور جو لوگ جماعت میں شریک نہ ہوں تو میں جا کر ان کے گھر جلا دوں یعنی ان کو مکان کے اندر بند کر کے ان کو آگ لگا دوں۔پس اگر وہاں کے رہنے والے دوسری جماعت کرتے ہوتے تو یا شرعا یہ جائز ہوتی تو پھر (جو) پہلی جماعت میں شامل نہ ہوتا رک جماعت ہوئے۔اور حضور پہلی جماعت (میں) ان لوگوں کو شریک نہ ہونے پر ان کو اور ان کے مکانوں کے جلانے کا اہتمام کرتے ؟ پس یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ اس جگہ کے لوگ دوسری جماعت نہیں کر سکتے۔اور پھر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاف فتویٰ ہے کہ دوسری جماعت نہیں ہوسکتی۔قرآن مجید میں تو اس مسجد کو مسجد