اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 582 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 582

۵۸۸ حالات میں عورت کو اجازت ہے کہ وہ خلع کروائے۔اور یہ ضلع عدالت یا قاضی کر سکتا ہے۔عورت کو چاہئے کہ اپنی درخواست خلع عدالت یا قاضی کے سامنے پیش کرے۔اور اپنا تعلق اس مرد سے منقطع کر والے۔اور یہ جوتحریر کیا گیا ہے کہ خاوند اس عورت کی شادی اپنے بھائی سے کرنا چاہتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس عورت کو اس امر پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جبکہ عورت اپنی رضا مندی کا اظہار نہ کرے۔اس کا نکاح کسی جگہ نہیں ہوسکتا۔جذام یا نا مردی کی بیماری کے لئے قضا اور عدالت کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پہلے علاج کے لئے کچھ مہلت دے اس کے بعد بیماراگرا اچھا ہو جائے تو بہتر اور اگر تندرست نہ ہو تو قاضی اور حاکم نکاح کو فسخ کر سکتا ہے۔(۳۲-۱۱-۲۳) ۱۲- از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ناظر تعلیم و تربیت استفتاء۔بھڑوں وغیرہ کو جو گھروں میں چھتے بنالیتی ہیں اور جن کا ڈنگ سخت تکلیف دہ ہوتا ہے تباہ کرنے کی غرض سے انہیں یا ان کے چھتے کو آگ سے جلانا جائز ہے۔اگر جائز ہے تو حدیث لا يـعـب بــالنـار الاّ رب النار ۲۸ کی کیا تشریح ہے۔فتویٰ : احادیث پر غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے سوا دوسری موزی چیزوں کا جلانا جائز ہے۔سوال میں حدیث کا جوٹکڑا درج ہے۔جس سے تعذیب بالنار کی ممانعت معلوم ہوتی ہے جس کو اس کے با قبل کے ساتھ ملایا جائے تو انسان کی تخصیص معلوم ہو جاتی ہے۔کیونکہ واقعہ یوں ہے کوئی دو شخص تھے جن کی نسبت آنحضرت نے فرمایا تھا اگر وہ ہاتھ آئیں تو ان کو جلا دینا مگر جب صحابہ اس طرف روانہ ہونے لگے تو اس وقت حضور نے ان کو فرمایا کہ میں نے جن دو شخصوں کے جلانے کو کہا تھا۔ان کو نہ جلانا کیونکہ لا يــعــذب الـنـار الارب النار۔اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ایک نبی کو نملہ نے کاٹا تو اس نے ان کے سوراخ میں آگ جلا کر سب کو جلا دیا تو اس کو وحی ہوئی کہ ملا واحدةً۔اور پہلی تشریع کی جب تک تنسیخ وغیرہ مذکور نہ ہو تو وہ قابل تمسک ہوتی ہے۔توریت میں مفتوح بلاد کے سب غنائم کے جرم کرنے ( جلا دینے ) کے مؤکد احکام موجود ہیں۔نیز حدیث میں تعذیب بالنار کی ممانعت ہے نہ کہ کسی موذی چیز کے اضرار سے بچنے کے لئے اس کو کسی خاص آلہ سے قتل کرنے کی بلکہ اقتلوا الموذيات قبل الايذاء کا ارشاد ہے۔جس میں ذریعہ قتل کو عام رکھا ہے۔اور ظاہر ہے کہ بیماریوں سے بچنے اور صحت حاصل کرنے کے لئے جو جرم دواؤں کے ذریعہ یا جو اعضا اپریشن کے ذریعہ مارے یا کاٹے جاتے ہیں اس میں خواہ قتل و امانت اور دکھ اور تکلیف ہے مگر تعذیب نہیں۔اور یہ فرق اور ارادہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس حدیث میں تعذیب بالنار کی ممانعت ہے۔پس ان وجوہات سے بھڑوں وغیرہ موذی چیزوں کا جلانا جائز ہے۔