اصحاب احمد (جلد 5) — Page 574
۵۸۰ کے باعث تیم جائز نہیں ہوگا عدم وجدان ماء کی قید کو فقط مسافر ہی کے ساتھ لگایا ہے۔انہوں نے اس تخصیص کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔اور یونہی دعوی بلا دلیل کر دیا ہے جو قابل قبول نہیں ہوسکتا ) میرے نزدیک یہ اشکال ہر گز وارد نہیں ہوتا۔بلکہ جس بنیاد پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے وہی غلط ہے اور قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔پس اس آیت کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے پہلی بات تو سوچنے کے قابل ہے کہ جب ولـــم تـجـدوماء كومــرضــی اور علیٰ سفر کی قید بنائیں گے تو پھر اسباب تیم میں مرضی اور سفر کوکوئی دخل نہیں رہتا۔بلکہ صرف عدم وجدان ماء ہی سبب تیم رہ جائے گا۔پس اس صورت میں کنتم مرضیٰ اور علی سفر کا لفظ بھی لغو اور بے کار ہو جاتا ہے۔کیونکہ اگر انسان بیمار بھی نہ ہو اور سفر پر بھی نہ ہو بلکہ تندرست غیر مسافر اور مقیم ہو اور پانی نہ پائے تو اس حالت میں بھی بالیقین اور بالاتفاق تیم ہی کرے گا تو جب بغیر مرض اور سفر کے بھی عـــــــدم وجدان ماء کی صورت میں یقیناً تیم ہی کرنا ہوگا تو عدم وجدان مآء کے ساتھ مریض اور مسافر ہونے کی قید کیوں ذکر کی۔کیونکہ عدم وجـدان مـاء تو خود ایک مستقل سبب تیم ہے اس کے ساتھ مرض اور سفر کے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔بلکہ تندرستی اور اقامت کی حالت میں بھی عدم وجدان ماء تمیم کا مجوز سبب ہے۔پس اس سے ثابت ہوا کہ عدم وجدان ماء کو علیٰ سفرا کیلے کا یا اس کے ساتھ کنتم مرضی کا بھی قید اور شرط بنانا صریح طور پر غلط اور نا جائز ہے۔دوسری بات جو یہاں پر قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نے جہاں جہاں بھی مرض اور سفر کو کسی شرعی فرض کا عذر مرخص کیا ہے قرار دیا ہے تو تنہا ہی مرض اور سفر کوسبب مرخص قرار دیا ہے۔اور اس کے ساتھ کسی اور قید کو اعتبار نہیں کیا۔مثلاً روز ہ جو کہ وضو اور غسل کی لوح کسی دوسری عبادت کے ضروری شرائط اور توابع سے نہیں۔بلکہ نماز کی طرح بذات خود ایک مستقل فرض عبادت ہے۔اس روزہ میں بھی مرض اور سفر کو عذر مرخص قرار دیا ہے تو کیلے مرض اور سفر ہی کو قرار دیا ہے اور ان کے ساتھ کسی اور قید کا اضافہ نہیں کیا۔چنانچہ فرمایا وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ - اسی طرح عدم فرضیت صلوۃ جمعہ میں قصر صلوۃ وغیرہ میں اکیلے مرض یا سفر کو سبب بنایا ہے۔اور اس کی وجہ معقول ہے اور وہ یہ ہے کہ ان عبادات کے لئے قوت میسرہ کا شریعت نے اعتبار کیا ہوا ہے ورنہ سفر میں کہاں پوری نماز پڑھنی انسان کے لئے ناممکن ہو جاتی کہ وقت کی ضروری سفر کی وجہ سے ترک صلوٰۃ کر کے جمع صلواتین کی رخصت ہوگئی۔اور قوت میسرہ کا اعتبارا کیلے مرض اور اکیلے سفرکو ایسے اہم اور مستقل فرائض میں جب سبب مرخص بنا دیتا ہے تو پھر وضو اور غسل جیسے میں جو دوسری عبادت کی شرائط میں سے اور اس کے توابع میں سے ہے کیوں سبب مرخص نہیں بنائے جائے گا اور اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ بیمار اور مسافر کے لئے وضو اور غسل یسر