اصحاب احمد (جلد 5) — Page 572
۵۷۸ گے۔کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا۔اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزاروں نشان دیکھ لئے ہیں۔سو یہی میری جماعت ہے اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غم خوار ہوئے اور نا شناسا ہوکر پھر آشناؤں کا سا ادب بجالائے خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا۔اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا ؟ مجھے در حقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھے دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا۔اور میرے کلام کو سنا۔اور اس میں غور کی۔تب اسی قدر قرائن سے حق تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا۔اور میرے ساتھ ہو گئے۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے۔اور اپنے نفس کو ترک اور اخذ کے لئے مجھے حکم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پاسکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے۔جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا۔اور جو اللہ جل شانہ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا۔اس کی خوشبو ان کو آ گئی۔انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔با کمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرانہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زمیر کی کسی کو دوں۔ایک ہی ہے جو کسی کو دیتا ہے وہ جس کو عزیز رکھتا ہو ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔‘ 41