اصحاب احمد (جلد 5) — Page 571
۵۷۷ -12 -IA فكان ثناء اللہ مقبول قومہ اور ثناء اللہ اپنی قوم کی طرف سے مقبول تھا ومنا تصدى لـلـتـخــاصـم ســرور اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے۔كأن مقام البحث كان كاجمة گویا مقام بحث ایک بن کی طرح تھا جس به الذنب يعوى والغضنفریزر میں ایک طرف بھیڑیا چیخ رہا تھا اور دوسری طرف شیر ببرغرا تا تھا۔مباحثہ میں تائید سماوی کے اصل مؤرد حضرت مولوی صاحب ہی تھے جو کہ مباحثہ کر رہے تھے۔قصیدہ کی عظمت شان کے متعلق حضور فرماتے ہیں۔اگر ہمیں دن میں انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست ونابود ہو گیا۔اور میر اسلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔‘ ۵۹ مسیح زمان ، مهدی دوران ، جری اللہ فی حلل الانبیاء ، موعود اقوام عالم، ہاں جو ثریا سے ایمان واپس لایا۔جس کو حضرت خاتم النبین علیہ السلام نے سلام بھیجا۔جس ذات بابرکت پر یہ وحی نازل ہوئی انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدى انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق۔انت منى وانا منک لولاک لما خلقت الافلاک۔اس ذات والا صفات نے جس بزرگ میں اپنی خدا داد فراست سے رشد و سعادت پائی تھی۔اور وہ ان پاک نفس وجودوں میں سے آخری زندہ تھا جن کی اقتداء میں حضور نے نماز میں ادا کی تھیں۔یہ پاک و مطہر وجود ہمیشہ کے لئے ہم کے لئے ہمیں داغ مفارقت دے گیا اس فنفر سے یہ عالم فانی دائماً محروم ہوگیا۔آہ صد آہ! سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ایک صحابی کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں۔ان کی زندگی نیکی اور تقویٰ کی ایک مثال تھی۔ایسے لوگوں کا گزر جانا قوم کے لئے ابتلاء کا موجب ہوتا ہے اور آنے والی نسلوں کا فرض ہوتا ہے کہ ان کی یاد کو اپنے دلوں میں تازہ رکھیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔اور ان کے روحانی وجود کو دنیا میں قائم رکھیں۔‘۶۰ حضرت اقدس کا ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں یقیناً منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہوگا۔اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں