اصحاب احمد (جلد 5) — Page 35
۳۵ دونوں نے آپس میں مصافحہ کیا اور سید صاحب کا ہاتھ پکڑے ہوئے پہلے دالان کے جنوبی جانب میں دیوار کے ساتھ پیٹھ لگا کر شمال کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے اور سید صاحب کو اپنی داہنی طرف بٹھا دیا اور مولوی صاحب اس کے سامنے دو تین گز کے فاصلہ پر شمال کی طرف پیٹھ کر کے اور نبی کی طرف منہ کر کے دوزانو بیٹھ گئے۔یہ نبی ہو بہو حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ ہیں وہی قد بت ، وہی لباس ، وہی شکل ،مگر آنکھیں بند اور سر جھکایا ہوا ہے جیسے مراقبہ یا استغراق کی حالت ہوتی ہے۔ساری مسجد آدمیوں سے بھری ہوئی ہے۔مولوی سرور شاہ صاحب کو خیال آیا کہ اس نبی کی صداقت معلوم کرنی چاہیئے اور سوچا کہ شناخت کرنے کے لئے کیا ذریعہ اختیار کیا جائے۔یہ بات سوجھی کہ آپ چند مسئلے خیال میں رکھیں۔اگر یہ واقعہ میں نبی ہے۔تو ان کے متعلق کچھ بتائے گا۔اس خیال پر اس نبی نے سر اٹھایا اور آنکھیں بند ہی رکھیں اور ان تینوں مسئلوں پر تقریر شروع کر دی۔اس وقت مولوی صاحب کے دل میں ایک یقین کی حالت پیدا ہوگئی کہ واقع میں یہ سچا نبی ہے اور آخر میں اس نے یہ الفاظ بھی کہے کہ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ اسی طرح آزمائے جاتے ہیں۔مگر وہ آزمائشوں میں بچے نکلتے ہیں۔اس کے بعد معا آپ کے دل میں خیال آیا کہ سوائے خدا کے اور کوئی نہیں بتا سکتا اور آپ اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے روتے ہوئے یہ دعا کرنا شروع کی کہ خداوند ! تو جانتا ہے کہ میں جاہل ہوں۔مجھے معلوم نہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے یا مفتری ہے۔اگر یہ تیری طرف سے ہے تو تو اس کی سچائی مجھ پر ظاہر کر دے اور میں اس کو ضرور مان لوں گا اور اگر یہ تیری طرف سے نہیں اور مفتری ہے تو اس کا افتراء مجھ پر ظاہر کر دے۔خواہ ساری دنیامان لے میں اسے ہرگز نہ مانوں گا۔خواب ہی میں اچانک آپ پر کشفی حالت طاری ہوئی اور مخروطی شکل کا ایک نور نظر آیا۔اس کی موٹی طرف آسمان سے لگی ہوئی تھی اور باریک سرا اس نبی کے دل میں تھا۔اس مجلس کے سب لوگوں کے دل مولوی صاحب کو نظر آتے تھے جو بالعموم نہایت ہی مگر وہ شکل کے تھے کہ انہیں دیکھ کر قے آتی ہے اور مختلف رنگ اور شکلوں کے تھے اور مقدار بھی ان کی مختلف تھی لیکن اس نبی کا دل بہت بڑا اور عقیق کے رنگ کا تھا اور اس میں سے نور جو نکلتا تھا وہ نہایت سفید براق لیکن اس کے اوپر کچھ سبزی مائل نشان تھا اور بہت خوبصورت نظر آتا تھا۔یہ نظارہ دیکھتے ہوئے آپ کے دل نے نہایت پختہ طور پر یقین کر لیا کہ یہ نبی واقعہ میں اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ابھی آپ ہاتھ اٹھائے دعا کر رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے آ کر آپ کے بائیں شانہ سے ذرا نیچے پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور نہایت باریک چینی ہوئی آواز کے ساتھ اس نے اس تیزی کے ساتھ کہا کہ گمراہ ہے ، گمراہ ہے، گمراہ ہے کہ کوئی انسان اتنی تیزی سے اسے دُہرا نہیں سکتا۔ہاتھ رکھنے سورۃ الاحقاف