اصحاب احمد (جلد 5) — Page 555
۵۶۱ طرح ایک مسلمان نا درست نماز پڑھنے والے کو دیکھ کر خاموش رہے اور جب اس نے نماز پڑھ لی تو فرمایا پھر پڑھو۔اسی طرح صحابہ نے جب بعض کو عید گاہ میں نفل پڑھتے دیکھا تو اس وقت نہیں بلکہ بعد میں روکا۔پھر کوئی نہیں بتا سکتا کہ مسیح موعود نے کبھی کسی کا نقص دیکھ کر اس کے منہ پر بتایا ہو۔بعد میں واعظانہ رنگ میں سمجھاتے اور سمجھنے والا سمجھتا۔مگر منہ پر نہ کہتے کیونکہ اس طرح ضد پیدا ہو جاتی ہے اور بہت کم لوگ پھر فائدہ اٹھاتے ہیں۔۱۸- جب دوسروں کو بوجہ ممانعت گوشت نہ ملتا تھا تو حضور نے بھی اس عرصہ میں کھانا پسند نہ کیا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔و بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا مولوی سید سرور شاہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ قادیان کے قصابوں نے کوئی شرارت کی تو اس پر حضرت صاحب نے حکم دیا کہ ان سے گوشت خرید نا بند کر دیا جائے۔چنانچہ کئی دن تک گوشت بند رہا۔اور سب لوگ دال وغیرہ کھاتے رہے۔ان دنوں میں نے (مولوی سید سرور شاہ صاحب نے ) حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میرے پاس ایک بکری ہے وہ میں حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔حضور اسے ذبح کروا کے اپنے استعمال میں لائیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمارا دل اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ہمارے دوست دالیں کھائیں اور ہمارے گھر میں گوشت پکے۔سیرۃ المہدی حصہ دوم ، روایت ۴۰۲۔اس پر حضرت مؤلف رقم فرماتے ہیں کہ : - اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت صاحب اس بات کے قائل تھے کہ سب مومنوں کے گھر میں ایک سا کھانا پکنا چاہئے اور سب کا تمدن اور طریق ایک سا ہونا چاہئے بلکہ منشاء صرف یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ گوشت خریدنے کی ممانعت کی گئی تھی آپ کے اخلاق نے یہ گوارا نہیں کیا کہ آپ اپنے لئے تو کوئی خاص انتظام کر لیں اور دوسرے ذی استطاعت احباب جو گوشت خریدنے کی طاقت تو رکھتے تھے مگر بوجہ ممانعت کے ڑکے ہوئے تھے، دالیں کھائیں۔والا ویسے اپنے گھر میں ہر شخص کو اختیار ہے کہ اعتدال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق جس طرح کا چاہے کھانا کھائے۔“