اصحاب احمد (جلد 5) — Page 554
میں مسیحیت سے زیادہ ہے میری جماعت میں مسیحیت کی شان کے ماتحت جولوگ آئیں گے وہ کم ہوں گے۔یہ ایک بشارت ہے کہ ہما را کثیر حصہ پہلوں کی ٹھوکروں سے بچے گا مگر آپ جانتے ہیں جس کم حصہ کے لئے بھی یہ بات ہو وہ تو ہلاک ہوا۔“ ۱۵- حضرت حسین کے متعلق حضرت مسیح موعود کے وقت میں ایک زمانہ میں مہمان خانہ میں ایسے لوگ جمع ہو گئے تھے جو دیر تک بحث ومباحثہ میں لگے رہا کرتے تھے۔اسی عرصہ میں کہیں امام حسین علیہ السلام کے متعلق بحث چل پڑی۔حضور کو معلوم ہوا تو آپ نے اشتہار لکھا اور بتایا کہ ہم امام حسین کے متعلق کیا اعتقادر کھتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ حدیث کی بے قدری کرنے لگے تو حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کے سامنے جماعت کو اس غلطی سے روکا تھا۔“ ۱۶- بچوں کی تربیت ہمیں اپنے بچوں کو نصیحت کرنی چاہئے اور سمجھانا چاہئے مگر جبر نہیں کرنا چاہئے۔مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود کوکسی شخص نے کہا کہ حضور اپنے صاحبزادوں کو ( جوا بھی بہت چھوٹے تھے ) نماز کے لئے فرمائیں۔حضرت نے ایک صاحب کا نام لے کر جواب بیٹھے ہیں اور جن کا نام میں اس وقت نہیں لینا چاہتا۔فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ جس طرح فلاں صاحب کا فلاں لڑکا ان کی نماز پڑھتا ہے یہ میری نماز پڑھیں۔ہاں ترغیب ضروری ہے۔☆۔۔۱۷- نقص منہ پر بتانا ضد کا باعث -12 ایک خطبہ جمعہ میں آپ بیان فرماتے ہیں۔ایک بدوی نے رسول کریم کے وقت ( میں) مسجد میں پیشاب کیا۔آپ دیکھتے رہے مگر نہ روکا۔اسی ۱۴ تا ۱۶ مندرجه خطبه ۱۸ فروری ۱۹۲۱ء مندرجه الفضل ۲۱-۲-۲۸ ( صفحہ ۵ تا ۷ ) یہ عبارت مسلسل نہیں ہے بلکہ ہر پیرا خطبہ میں سے الگ الگ اقتباس کے طور پر نقل کیا گیا ہے پہلے پیرے کے آخر پر الفاظ یہ ایک بشارت ہے ( تا ) ہلاک ہوا۔اور آخری پیرے میں الفاظ ” ہاں ترغیب ضروری ہے۔حضرت مولوی صاحب کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں۔