اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 31 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 31

۳۱ ناراض ہو کر سہارن پور کی ایک مسجد میں مدرسہ جاری کر دیا ہے اور تمام طلباء وہاں چلے گئے ہیں اور مظاہر العلوم خالی ہو چکا ہے۔سو جب تک حاجی صاحب کے مقابلہ میں منطق و فلسفہ بہتر پڑھانے والا استاد نہ دیا جائے مدرسہ جاری نہیں رہ سکتا۔اساتذہ سے مشورہ کے بعد شوری نے انہیں کہا کہ ہم ایسا استاد دیں گے لیکن امتحان ہو چکنے کے بعد۔مگر نتیجہ کا انتظار کئے بغیر امتحان ختم ہوتے ہی بھیج دیں گے اور حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کا نام بتا یا اور کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ آپ حاجی صاحب سے بہتر استاد ثابت ہوں گے۔آپ کو امتحان کے بعد وہاں جانے کے لئے کہا گیا اور آپ نے اسے منظور کر لیا۔امتحان ہوتے ہی نتیجہ نکلنے سے قبل آپ کو سہارن پور بھیج دیا گیا۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہاں کام کرنا بہت مشکل ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے اول مدرس مولوی حبیب الرحمن جو مولانا محمد قاسم نانوتوی کے استاد مولانا احمد علی کے بیٹے تھے کسی نابکار عورت کی محبت میں سالہا سال تعلیم وتعلم سے بیگانہ ہو کر اس کے پاس رہے تھے اور اس وجہ سے علم بھول چکا تھا لیکن انہیں شوق تھا کہ ہر علم کی بڑی کتا بیں وہ خود پڑھایا کریں۔سکیم کے لحاظ سے دوسرے استادوں کو بڑی کتابیں اور بڑی جماعتیں دینے کی بجائے انہیں چھوٹی جماعتیں دیتے تھے۔اسی وجہ سے حاجی صاحب مذکور مدرسہ چھوڑ کر علیحدہ ہو گئے تھے اور علیحدہ مدرسہ جاری کر لیا تھا کیونکہ منطق وفلسفہ کی چھوٹی چھوٹی کتابیں مولوی حبیب الرحمن نے ان کے سپر د کر دیں اور بڑی کتا بیں خود پڑھانی شروع کر دیں۔یہی سلوک حضرت مولوی صاحب کے ساتھ ہوا۔اساتذہ نے کہا کہ آپ یہ کتا بیں نہ پڑھا ئیں اور بڑی کتابیں سپر د کر نے کے متعلق کہیں لیکن آپ نے کہا کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ بہت جلد ہی وہ خود میر امضمون میرے سپرد کر دیں گے۔چنانچہ آپ نے یہ طریق اختیار کیا کہ طلباء سے کہدیا کہ میں قریباً فارغ ہی رہتا ہوں اور رہتا بھی مدرسہ کے اندر ہوں۔اگر کوئی بات پوچھنا چاہو خواہ وہ کسی فن اور کسی کتاب کی ہوا اور کسی استاد کے متعلق ہو تو میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ آپ کی تسلی ہو جائے۔آب طلباء آپ کے پاس آتے اور مشکلات حل کراتے اور تسلی پاتے۔چند دنوں میں ہی انہوں نے شور ڈال دیا کہ ہم تو انہی سے پڑھیں گے۔آپ نے کہا کہ جب تک مجھے مولوی حبیب الرحمن مقر ر نہیں کرتے از خود سبق نہیں لوں گا۔بالآ خر وہ مہتمم مدرسہ کو جو بوجہ بڑا رکیں اور معمر ہونے کے کبھی مدرسہ میں نہیں آیا تھا۔طلباء اسے مدرسہ میں کھینچ لائے اور اس نے مولوی حبیب الرحمن سے بات چیت کر کے منطق و فلسفہ کلیہ آپ کے سپر د کر دیا اور باقی علوم کی بھی بڑی کتب آپ کے سپرد کر دیں۔جو طلباء مدرسہ چھوڑ کر حاجی صاحب کے پاس چلے گئے تھے واپس مدرسہ میں آگئے اور حاجی صاحب سہارنپور چھوڑ کر میرٹھ چلے گئے۔جب حضرت میاں محمود احمد صاحب مع قافلہ مدارس