اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 516 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 516

۵۲۱ دینا چاہئے۔اور اسی پر ہی ساری توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔جب ملاں تنگ آجاتا ہے اور اپنی ناکامی کو سامنے دیکھنے لگتا ہے تو پھر وہ منطق و فلسفہ کے جنگل یا صرف ونحو کے بن میں گھسنا چاہتا ہے۔اور شکار اگر بن میں گھس جائے تو پھر اس کا پکڑنا مشکل ہوتا ہوتا ہے کہ اس لئے اس کو میدان ( یعنی اصل مضمون ) میں ہی رکھو بن میں گھنے نہ دو۔“ یہ بھی تاکید فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت (فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی) سے وفات مسیح علیہ السلام پر جو استدلال کیا ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لو اور پھر اس کی تفصیل بیان فرماتے۔اور فرماتے کہ اکثر لوگ اس استدلال کو نہیں سمجھتے اور مخالف کے اعتراضات کا نشانہ بن جاتے ہیں۔آپ نے اس استدلال کی تفصیل اپنی تفسیر القرآن میں بھی شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمائی ہوئی ہے۔اور يُقِيمُونَ الصَّلواة (سورۂ بقرہ) کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس طریق پر نماز ادا فرماتے تھے۔اس کو بھی بیان کیا ہے۔اور آپ کے اس بیان کردہ طریق نماز سے اس بات کا اندازہ لگ سکتا ہے کہ آپ کس طرح ہر چیز کو باریک نظر سے دیکھا کرتے تھے۔غرضیکہ آپ ہماری تعلیم کو ہر لحاظ سے مکمل اور جامع و مانع بنانے کی فکر میں ہر وقت لگے رہتے اور دل سے چاہتے تھے کہ ہم صحیح معنوں میں حقیقی عالم بن جائیں۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مشیت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سایہ عاطفت میں پرورش پانے والے لوگ علماء کرام کو ہماری تعلیم کے لئے مقرر فرما کر اپنا ایک بہت بڑا احسان ہم پر فرما دیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَجَزَاهُمُ اللهُ أَحْسَن الجَزَاء ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۸ء تک کے دس سال جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک خاص امتیازی شان رکھتے ہیں۔انہی دنوں دس سالوں کے اندر جماعت احمدیہ نے بین الاقوامی (انٹرنیشنل ) جماعت ہونے کی حیثیت حاصل کی۔ہندوستان کی آزادی کے لئے خاص جد و جہد انہی ایام میں شروع ہوئی۔ہندومسلم فسادات تحریک کشمیر، مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کی نبرد آزمائی۔تحریک احرار تحریک جدید کا آغاز ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی تنظیمات کا قیام۔دوسری عالمگیر جنگ کی (جس نے صلیب پرستوں کی شان وشوکت کو خاک میں ملا دیا ) بنیاد وغیرہ وغیرہ۔انہی دس سال کے عرصہ میں پڑی اور انہی ایام کے وسط میں جبکہ آپ بھی اور آپ کے رفقاء دومرتبہ ہوتا ہوتا حضرت مولوی صاحب ایسے الفاظ استعمال کر لیا کرتے تھے ( محمد شریف ) اور آپ کے منہ سے یہ بہت ہی بھلے معلوم ہوتے تھے۔(مؤلف)