اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 505 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 505

۵۱۰ میں نے آپ کی یہ نصیحت یا موعظ یا درکھی۔اور آپ کے وقت میں حتی الوسیع کلاس سے نہ کھسکا کیا ( گو ہمارے دوسالہ یاسہ سالہ دوست شاید بوجہ ان کتابوں پر عبور رکھنے کے اس وقت باہر جا کر ملحقہ گراؤنڈ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں کرکٹ سے بھی تسلی پایا کرتے تھے ) اور میں بھی آپ کی دعا کی برکت سے ہی پہلے سال ہی پنجاب یونیورسٹی کے مولوی فاضل کے امتحان میں کامیاب ہو گیا اور اس وقت مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی تاریخ میں سب سے چھوٹی عمر کا طالب علم تھا جس نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کر لیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * آپ کی دعا کی برکت سے ان ایام میں مجھے اخویم مولوی تاج دین صاحب سیالکوٹی فاضل بصورت ایک نہایت ہی شفیق و محب کے مل گئے۔جن کی راہنمائی سے میں نے ”قطبی“ اور مفصل“ وغیرہ کو پڑھا۔پھر تہذیب واشارات اور سُلَّمُ العلُوم کو بھی امتحان سے ایک ڈیڑھ ماہ قبل ( تا کہ امتحان سے پہلے بھول نہ جائیں ) زبانی حفظ کیا۔یقیناً اگر آپ کی دعا ئیں نہ ہوتیں تو میرے جیسے ایک کم عمر طالب علم کا منطق وفلسفہ اور انشاء وغیرہ مضامین میں کامیاب ہو جانا ناممکن تھا۔فَجَزَاهُمَا اللَّهُ اَحْسَن الجَزَاء مولوی فاضل کے امتحان کے لئے میں نے اپنا سنٹر مجبوراً تبدیل کر لیا تھا۔جس سنٹر میں میں نے امتحان دیا۔اس میں چند بڑی بڑی ڈاڑھیوں والے اور مجھ سے عمر میں بہت بڑے سرحدی ملاں بھی مولوی عالم ومولوی فاضل کے امتحان دے رہے تھے۔ایک دن ان سے ہال امتحان میں داخل ہونے سے پہلے رہا نہ گیا۔اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کون سا امتحان دے رہے ہیں؟ میں نے کہا مولوی فاضل کا ! کہنے لگے کیا آپ نے مولوی کا امتحان پاس کر لیا تھا؟ میں نے کہا نہیں ! کہنے لگے کیا آپ نے مولوی عالم کا امتحان پاس کر لیا ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں! کہنے لگے آپ پہلے دو امتحان پاس کر لینے کے بغیر کیسے مولوی فاضل کا امتحان دے رہے ہیں۔میں نے کہا۔یونیورسٹی کی طرف سے اجازت ہے۔پہلے مولوی یا مولوی عالم کا امتحان پاس کرنا اخویم چوہدری صاحب محرر مضمون ہذا خاکسار کے ہم جماعت ہیں۔گر مجھے یہ یاد نہیں کہ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا تھا یا نہیں لیکن میں شاہد ہوں اس بات کا کہ مجھے منطق وفلسفہ کے سارے نصاب میں سے شاید ہی مجموعہ دو تین صفحات یاد ہوئے ہوں اور اس وجہ سے میں ایک سال تاخیر سے امتحان دینے کا بھی عزم کر چکا تھا لیکن پھر امتحان دیا اور میں حیران ہوں کہ اس پر چہ میں کس طرح کامیاب ہو گیا بلکہ ساری یونیورسٹی میں سوم آیا۔البتہ یہ درست ہے کہ میں جماعت سے یا حضرت مولوی صاحب کے تدریس کے وقت غیر حاضر نہیں ہوتا تھا۔(مؤلف)