اصحاب احمد (جلد 5) — Page 504
۵۰۹ مفردات یعنی خزینۂ الفاظ (VOCAVBULARY) پر ہے۔اور عربی صرف و نحو با وجود نہایت آسان ہونے کے ہمارے ملک میں ایک بلاء یا ابتلاء بتلائی جاتی ہے۔اور اس کی تعلیم کے لئے کتابیں بھی وہ منتخب کی جاتی ہیں جو گزشتہ زمانہ کے علماء کرام نے اپنا خشک علم جتلانے یا علماء کے لئے بطور خلاصہ یا معجزن مرکب کے لکھی ہیں اور نو عمر طالب علموں کے ساتھ ان کا دور کا بھی تعلق نہیں۔گزشته علم منطق و فلسفہ بھی ایک خشک علم ہے جس کا وجود ومشہود سے یا موجودہ زمانہ سے کوئی تعلق نہیں۔پھر اس کلاس میں منطق و فلسفہ کی وہ کتابیں تھیں جو شیخ ابو علی سینا ء نے بطور اشاروں کے لکھی ہیں اور اشاروں کو صرف گونگا سمجھ سکتا ہے یا گونگے کی ماں یا حد درجہ کے زیرک انسان۔عوام اشاروں سے مستفید نہیں ہو سکتے اور نہ اشارات کلام کا کام دے سکتے ہیں۔یہ خشک اور غیر مستعمل علم حضرت مولوی صاحب کے بوجہ اس کا بہت بڑا مسلمہ عالم ہونے کے سپر د تھا۔اور یہ ہماری سمجھ سے بالا تھا۔اور بالا ہونا چاہئے تھا کیونکہ کسی علم کی انتہائی کتب پڑھنے سے پہلے اگر اس علم کی کوئی شد و بود بھی نہ ہو تو وہ علم یقیناً عالم طالب علموں کی سمجھ سے بالا اور وبال جان ہوگا۔مگر آپ بڑے استقلال اور بڑی تفصیل سے پڑھایا کرتے تھے۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ اس علم کی بلند فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں اور پڑھاتے پڑھاتے ہمیں دیوبند، دہلی، لاہور وغیرہ کے مدارس و مساجد اور کشمیر ، ہزارہ اور کاغان کے پہاڑوں کی چوٹیوں اور چشموں اور وادیوں کی سیر اور پرندوں کی شناخت بھی ساتھ ساتھ کروار ہے ہیں۔یقیناً عجیب تھا وہ زمانہ ! اور عجیب تھے وہ دن !! کالجوں میں چونکہ طالب علموں پر بوجہ ان کے نوجوان باشعور اور اپنے نفع و نقصان سے واقف ہونے کے جم کر بیٹھے رہنے یا استاد کی اجازت کے بغیر باہر نہ جانے کی پابندی نہیں ہوتی صرف حاضری لگوانا ہی ضروری ہوتا ہے۔اس لئے عام طور پر اس منطق و فلسفہ کی بلاء سے نجات پانے کے لئے کلاس آہستہ آہستہ مدھم پڑ جاتی تھی۔مگر آپ کے پائے استقلال میں کوئی جنبش نہیں آتی تھی۔خود آپ کو بھی احساس تھا کہ اس مضمون میں فیل ہونے میں طالب علموں کا اس قدر قصور نہیں جتنا اس کے بہت طول طویل مقررہ نصاب اور متحنین کی خشک دماغی اور ہچو ما دیگرے چیست والی ذہنیت ہے۔مگر آپ چاہتے تھے کہ ناممکن کو مکن کر دکھا ئیں۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا ”میاں ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے شاگردوں کو کس قدر منطق و فلسفہ آتا ہے۔میں تو یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ اے خداوند کریم جو طالب علم میری کلاس میں حاضر رہتے ہیں اور کلاس چھوڑ کر باہر نہیں جاتے تو ان کو ضرور بالضرور اپنے فضل سے پاس کر دے۔اور خداوند کریم میری یہ دعا قبول کر لیتا ہے۔اور ان کو جو غیر حاضر نہیں ہوتے پاس کر دیتا ہے۔اور تم بے شک خود اس کا تجربہ کر کے دیکھ لو۔“