اصحاب احمد (جلد 5) — Page 496
۵۰۱ کرتے۔انسانی حالات اور طبعی کمزوریوں کو مدنظر رکھتے اور موجودہ دور کے فطری تقاضوں کو بھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے اور بلاخوف لومۃ لائم فتویٰ صادر فرماتے۔اندھادھند مسئلہ بیان کرنے کی آپ ایک دلچسپ مثال بیان فرمایا کرتے۔آپ دیو بند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد کچھ عرصہ ایبٹ آباد میں مقیم رہے۔فرماتے تھے کہ وہاں پر ایک امیر شخص تھا جو نہ صرف خود جواُ کھیلتا تھا بلکہ اس نے قمارخانہ کھول رکھا تھا۔اس کی عمارت میں جو کھیلا جاتا اور وہ قمار بازوں سے فیس وصول کرتا اس لئے وہ خاصہ دولت مند تھا۔میں اس کی اس عمارت کے راستہ سے گزرا کرتا۔میں دیکھتا کہ میں آ رہا ہوتا تو ایک لڑکا بھاگا بھاگا اس مکان کی طرف جاتا اور وہ میرے گزرنے سے قبل رستہ سے ہٹ جاتا۔مجھے معلوم ہوا کہ اس نے خاص طور پر اس غرض کے لئے لڑ کا متعین کیا ہوتا ہے لیکن میں نے آہستہ آہستہ اس سے ربط پیدا کیا۔اور اس کو ان بری باتوں کے چھوڑنے کی ترغیب دی اس نے توجہ کی اور اپنی اصلاح کرلی۔اور اپنی دولت کو یتامیٰ اور غرباء کے لئے صرف کرنے لگا۔جو اُترک کر دیا۔شراب چھوڑ دی۔ایک دن ایبٹ آباد کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لئے پہنچا تو خطیب خطبہ دے رہا تھا۔یہ شخص ایک کونے میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔خطیب نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سنائی کہ قیامت کے دن فلاں فلاں پر اور ولد الحرام پر خدا کا سایہ نہ ہوگا۔میں نے دیکھا کہ وہی شخص جس کی اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اصلاح کی تھی کانپتا کانپتا کھڑا ہو گیا۔وہ شخص در حقیقت ولد الحرام تھا۔اس نے تھرائی ہوئی آواز میں خطیب سے پوچھا کہ مولوی صاحب! کیا یہ ٹھیک ہے کہ ولد الحرام خواہ وہ کتنا ہی نیک ہو اس پر قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کا سایہ نہ ہوگا ؟ خطیب نے جواب دیا۔ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ہے۔یہ سن کر اس شخص نے اپنی چادر سنبھالی اور مسجد سے باہر نکل گیا۔لوگوں نے نماز کے بعد تعجب کیا کہ وہ کہاں گیا۔اور کہاں ملے گا۔میں نے کہا کہ وہ شراب خانے کی طرف گیا ہو گا۔وہیں ملے گا۔بعض ہمدرد وہاں پہنچے اور اسے شراب سے مدہوش پایا۔اور اسے ہوش آتی تو وہ اور شراب طلب کرتا اور پی لیتا۔وہ ہوش میں آنا ہی نہ چاہتا تھا۔آپ نے بتایا کہ میں نے پھر آہستہ آہستہ کوشش کی۔اسے سمجھایا۔اس حدیث کے صحیح معنے بتائے اور وہ پھر اصلاح یافتہ ہو گیا۔یاس وقنوط کی کیفیت نے اسے برباد کر دیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ولد الحرام کے لئے اس کے ورثہ اور ماحول کے باعث خراب ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔اور اس کی تربیت میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو کر ایک بدکارانسان بن جاتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ قیامت کو اللہ تعالیٰ کے سایہ سے باہر ہوگا۔آپ قرآن کریم کے اعلیٰ پایہ کے مفسر تھے اور اس لحاظ سے جماعت میں آپ کا مقام بہت ہی بلند ہے۔