اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 495 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 495

۵۰۰ پیا کرتے تھے۔یہ تھوڑی سی سوجی بھون کر بادام پیس کر دودھ میں ڈال کر تیار کیا جاتا تھا۔پہاڑ پر ایک باور چی تھا اور بہت سے احباب کا اس نے کھانا پکانا ہوتا۔آپ کی طرف توجہ میں اس سے غفلت ہونے لگی۔آپ کی اس دقت کا مجھے احساس ہوا اور میں حریرہ کے لئے ضروری سامان بازار سے لے آیا لیکن باورچی کے پاس اس کے لئے وقت نہ تھا۔آخر حضرت مولوی صاحب نے مجھے بے تکلفی سے بتایا کہ یہ دقت ہے۔اس قیمتی وجود کے بارے میں کسی قسم کی غفلت میرے نزدیک گوارا کی جانے کے قابل نہ تھی لیکن بجائے افسروں کے پاس جانے یا باور چی سے الجھنے کے میں نے اسے علیحدگی میں بلایا۔اور اس پر اپنے بزرگ کی خدمت کی اہمیت واضح کی اور اس کے لئے خاص خدمت کے معاوضہ میں ماہوار انعام مقرر کر دیا پھر حضرت مولوی صاحب کو ملا تو معلوم ہوا کہ اب باور چی آپ کی تواضع کا ہر طرح خیال رکھتا ہے اور حریرہ تیار کر کے دیتا ہے میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری لاج رکھ لی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مفتی سلسلہ مقرر فرمایا ہوا تھا۔حضرت مولوی صاحب علم کے ایک سمندر تھے۔اس لئے عام مسائل میں آپ کو زیادہ محنت نہ کرنی پڑتی لیکن بعض اوقات ایسے مسائل در پیش ہوتے جن میں آپ حنفی مسلک سے مختلف مسلک اس بنا پر اختیار کرتے کہ خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس بارہ میں ارشاد موجود ہے ایسی صورتوں میں آپ طویل تحقیق فرماتے اور مدلل بیان تحریر فرماتے۔حضور نے قادیان میں اپنی نیابت میں قضاء کے مرافعہ جات کی سماعت کے لئے ایک بورڈ کا تقرر فرمایا تھا جس کا صدر حضور نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو مقرر فرمایا تھا۔بعض واقفین کو بھی ٹریننگ کی خاطر اس بورڈ کا رکن حضور نے مقرر کیا تھا۔ایک دفعہ حضرت مولوی شیر علی صاحب محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور ( سابق حج ہائیکورٹ مغربی پاکستان ) اور خاکسار کے سامنے بطور بورڈ شفعہ کا ایک مقدمہ پیش ہوا۔اس میں حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب کا ایک فتوی پیش ہوا۔اس میں آپ نے فقہ حنفیہ کے خلاف حدیث نبوی کی بناء پر یہ مسلک اختیار فرمایا تھا کہ اگر مکان تقسیم ہو جائے۔حدود معین ہو جائیں تو ہمسایہ کے لئے محض ہمسائیگی کی بناء پر شفعہ کا کوئی حق نہیں۔اس فتویٰ پر فریق مخالف کی طرف سے بڑی جرح کی گئی لیکن بورڈ نے اس فتویٰ کے مطابق فیصلہ صادر کیا اور پھر جب حضور اطال اللہ بقاءہ کے سامنے یہ فتویٰ پیش ہوا تو حضور نے اسے اتنا پسند فرمایا کہ جماعت کے مسلک کے طور پر جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی تقریر میں اس کا اعلان فرمایا۔گویا آپ کی بطور مفتی جدید تحقیق کو سب سے بڑا خراج تحسین تھا جو امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے پیش فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے پیش نظر آپ فقہ حنفیہ کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھتے لیکن آپ فرماتے تھے ” یک من علم راده من عقل باید آپ اندھا دھند کسی مسئلہ کو چسپاں نہ کرتے۔حالات پر غور