اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 483 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 483

۴۸۸ از جناب مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ مقیم سرگودھا (امیر صوبائی سابق پنجاب مغربی پاکستان ) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ان بزرگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں لا کر خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔آپ خدا کے فضل سے ایک متبحر عالم تھے۔قرآن کریم ، حدیث ، فقہ، کلام ، فلسفہ سب علوم میں آپ کو ایسی دسترس حاصل تھی کہ مشکل سے مشکل مسئلہ کو بھی آپ اسی وقت با قاعدہ سندات بیان کر کے حل فرماتے تھے۔قرآن کریم کی تفسیر فرماتے تو پرانے مفسرین کے حوالے کثرت سے دیتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو حافظہ ایسا دیا تھا کہ کئی سال کے وقفہ کے بعد بھی جب کسی بات کو دوبارہ بیان کرتے تو قریباً انہی الفاظ میں کرتے جو پہلے استعمال کئے ہوتے۔آپ کا بڑھاپا بھی اس حافظہ پر بہت کم اثر انداز ہوا۔آپ تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر تھے۔عبادت الہی میں آپ کو خاص شغف تھا۔پانچوں نمازیں با قاعدگی کے ساتھ مسجد مبارک ( قادیان ) میں باجماعت ادا فرماتے۔عموماًنماز سے بہت پہلے مسجد میں آکر صف اول میں امام کے پیچھے بیٹھتے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اگر کسی وقت خود تشریف نہ لا سکتے تو امامت حضرت مولوی صاحب کے سپرد ہی ہوتی۔آپ نماز بہت لمبی پڑھتے۔گویا یہ آپ کی اصل غذا تھی۔نماز کی امامت کرتے وقت بھی آپ اسے چھوٹی نہ کر سکتے۔آپ اس معاملہ میں معذور معلوم ہوتے تھے۔آیات کی تلاوت میں حروف اور الفاظ کی ادائیگی کا خاص خیال رکھتے۔آپ کی وفات سے پہلے ہفتہ کے روز شام کو یہ عاجز حسب معمول قادیان میں تھا مغرب یا عشاء کی نماز پڑھاتے پڑھاتے حضرت مولوی صاحب بیمار ہو گئے۔بخار کی حالت میں ہی گھر واپس تشریف لے گئے۔فجر کی نماز کے بعد یہ عاجز حضرت مولوی صاحب کے مکان پر آپ کا حال دریافت کرنے کے لئے گیا۔فرمانے لگے رات نیند بہت کم آئی اور میں نے کئی گھنٹے چارپائی پر نوافل ادا کرنے میں ہی گزارے۔اسی ہفتہ کے دوران میں آپ کی وفات ہوگئی۔سبحان اللہ کیا کیفیت ان بزرگوں کی تھی کہ آخر وقت تک اپنے رب کے ساتھ عہد کو وفاداری کے ساتھ نبھایا۔از اخویم مولوی محمد احمد صاحب ثاقب فاضل ( پروفیسر جامعه احمد یہ ربوہ ) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اس لئے ان امور کو جو