اصحاب احمد (جلد 5) — Page 463
۴۶۸ آپ نے وقف کو عمر بھر نبھایا اور دنیوی امور کی طرف قطعاً توجہ نہیں دی اور ۱۹۰۱ء میں ایک سواسی روپے ماہوار کی آمد ترک کر کے قادیان میں بارہ پندرہ روپے کا قلیل مشاہرہ قبول کر لیا۔اڑ میں سال بعد تک بھی جبکہ آپ ملازمت سے سبکدوش ہوئے آپ کا مشاہرہ ایک صد اسی کو نہیں پہنچا بلکہ صرف ڈیڑھ صد پر اکتیس سال بعد اختتام پذیر ہوگیا۔خاندان کی براتوں میں شمولیت آپ کو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ کی براتوں میں دہلی اور پشاور جانے کا عز و شرف حاصل ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ کے مطبوعہ بجٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳۱۔۱۹۳۰ء میں اور اگلے سال آپ ایک سو سینتیس روپے پاتے تھے اور گریڈ ۱۱۰۔۵۔۱۳۵ تھا۔جو۳۳۔۱۹۳۲ء میں ۱۵۰ تک ہو گیا اور یکم جولائی ۱۹۳۲ء سے تا سبکدوشی آپ ڈیڑھ صد روپیہ ہی پاتے تھے۔اور یکم مئی ۱۹۳۹ء سے آپ کی پنشن ساڑھے سینتالیس روپے مقرر ہوئی۔بدر میں مرقوم ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب بتقریب شادی اخویم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ہندوستان کو تشریف لے گئے ہیں ان کے ساتھ میر سرور شاہ صاحب بھی ہیں۔“ (۰۶-۷-۱۹ - صفحہ ۲۔واپسی کا ذکر ۰۶-۷-۲۶ صفحہ ۷ ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی شادی کی برات میں نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت مرزا محمود احمد صاحب ( خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) حضرت مرزا عزیز احمد صاحب اور حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب وغیرہ ہم کچھ احباب ۰ امئی ۱۹۰۶ء کو پشاور گئے اور ۶ امئی کو مراجعت ہوئی (الحکم ۰۶-۵-۱۷ (صفحه ۲ ) و بدر ۱۷-۵-۰۶ (صفه ۲) ۰۶-۵-۲۴ صفحه ۸ و تاریخ احمدیہ ( سرحد ) مؤلفه حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی صفحه (۳۱) بقیہ حاشیہ: اور حضرت اقدس کی وفات کے بعد چالیس برس تک وہ اپنے ساتھیوں کی لعن طعن اور پھٹکار کا مورد بنا رہا۔اس کا سیرت نگار جو اس کے ایک استاد کا نواسہ ہے۔ثناء اللہ کے ذلیل کرنے والوں کی درازی عمر کا خواہاں ہے۔وہ اور اس کا فرقہ ان عذاب کے ملائکہ غلاظ و شداد کی نیکی اور تقویٰ کی تشہیر کرتا ہے گویا اللہ تعالیٰ کی تقدیر خاص کارفرما تھی۔بھلا وہاں شاہ ابن سعود وغیرہ کیوں کر سدراہ ثابت ہو سکتے تھے۔کیا اس کے