اصحاب احمد (جلد 5) — Page 459
۴۶۴ ان میں سے دس کے اسماء درج کئے ہیں اور یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ بعض کے اسماء درج رجسٹر ہونے سے بقیہ حاشیہ: - و برباد ہو جائے۔”جو کام ہونا چاہئے تھا وہ نہ ہو سکے اور اس جماعتی نقصان کا باعث تمہارے جھگڑنے کو یقین جانے والا سیرت نگار بھی باوجود ساری عقیدت اور ہمدردی کئے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے پر مجبور ہو جائے۔خواہ تم کوئی ایسا حلال ذریعہ نہ رکھتے ہو۔جس سے دولت کی فروانی ہو سکے لیکن یہ اسوۂ مامور ثناء اللہ یا درکھو تمہاری جائیداد بہر حال لاکھوں روپیہ کی ہونی چاہئے اور ایسے چیلے چانٹے بھی تیار کرو کہ پیراں نمی پرند و مریداں مے پرانند کے مطابق حد درجہ مبالغہ آرائی کرانے والے ہوں تم مامور تو نہ ہو۔اور بلاسے نہ ہو عمر بھر بھی اس کا ادعانہ کیا ہو۔حالانکہ تمہارا مقابلہ ایک اور مامور ہونے کا دعویٰ رکھنے والے سے ہو اور اس وقت فرض ہو جاتا ہے کہ دوسرے کے دعوی کا بطلان ظاہر کرنے کے ساتھ اپنے روحانی مقام کا بھی اظہار کرو جس پر بطور ” مامور تمہیں کھڑا کیا ہو۔سیرت و سوانح کی ایسی ترتیب دی گئی ہو کہ تمہاری تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاوے لیکن دراصل وہ اس حقیقت سے ناواقف نہ ہو کہ ا کا بر فرقہ اور دیگر افراد کے قلوب خس کم جہاں پاک“ کا نعرہ لگاتے ہوئے جشن مسرت منارہے ہیں اور سیرت نگار کو بصد حسرت و یاس یہ کہنا پڑے؟ _ (اس کے ) نام اور کام کو آج فراموش کر دیا ہے۔“ ( صفحہ ۱۳) جونہی آنکھیں بند ہوئیں یکسر بھلا دیا گیا۔فراموش کر دیا گیا۔اس کا نام زندہ رکھنے کا فرض جن۔۔۔معتقدین اور جن اکابر جماعت پر عائد ہوتا تھا انہوں نے تجاہل عارفانہ سے نہیں تغافل مجرمانہ سے کام لیا۔وہ اصحاب جن پر امید تھی کہ اس کے کام اور اس کے مشن کو مرنے نہیں دیں گے اس کے رخصت ہوتے ہی بیگانے بن گئے۔۔۔کیا قائم کرنی ہے کسی نے اس کی یادگار؟۔۔۔آج تو یہ حالت ہے کہ مرحوم کی سوانح عمری لکھنا تو ایک طرف غالباً اسے کوئی پڑھنا بھی پسند نہ کرے گا۔اللہ ہم نے متواتر کئی ماہ تک اپنے جریدہ اہلحدیث میں اعلان شائع کیا اور احباب و بزرگان جماعت کو خصوصیت سے دعوت دی مگر حیف اور صد حیف! کہ ابوالوفاء کے احباب و یاران غار نے کوئی توجہ نہ دی۔‘“ (صفحہ ۶،۵) تفصیل فیصله ونشان نمبر ۲۲ نشان اعجاز احمدی اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی تصدیق کے لئے مباحثہ مد کے ذریعہ ایک چمکتا ہوا نشان اعجاز احمدی کے رنگ