اصحاب احمد (جلد 5) — Page 458
۴۶۳ تک میرے پاس محفوظ ہے۔“ بقیہ حاشیہ - آمادہ کرنے کی بہتیری کوشش کی لیکن مولوی صاحب کبھی اقرار کرتے اور کبھی انکار اور کبھی کہہ دیتے کہ میں نے آمادگی کا اقرار نہیں کیا تھا۔ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی ( ملاحظہ ہو مضمون مولوی سراج الدین صاحب الفضل ۱۴،۱۲ جولائی ۱۹۴۷ء) بابت فیصله نشان نمبر ۲۲ تیسرانشان مندرجه اعجاز احمدی اس کے مقابلہ میں عاجز رہ کر روسیاہی نصیب ہونے کے متعلق ہے۔اس بارہ میں تفصیل اسی حاشیہ میں الگ درج کر دی ہے۔ثناء اللہ کا انجام مولوی ثناء اللہ صاحب کے سوانح حیات کا لب لباب درج ذیل ہے تا کہ ان کے مداح ان کی ملت کی ان خدمات کو جو نا قابل فراموش اور ان کے نام اور مشن کو حیات جاوید بخشنے والی ہوں۔” آب زر سے لکھنے کے لائق ، پاکر آب زر سے لکھ سکیں۔" جب تم اگلے جہان کو سدھا رو تو تمہاری باقیات صالحات کے طور پر تمہارے فرقہ اہلحدیث میں زندگی اور حرکت کے آثار موجود ہوں“۔زندگی اور حرکت کے آثار پیدا کرنے والے مصلح اور مامور کو اس کا فرقہ حد درجہ ممنونیت کے باعث ” فراموش کر دے۔”مامور کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر ان کے اہل فرقہ نہایت کوشش سے افراد میں افتراق و انتشار پیدا کریں اور اس حد تک پیدا کریں کہ آپس میں سلام کلام بھی ایسی شدت کے ساتھ بند ہو کہ اکابر فرقہ کی مصالحت پیدا کرنے کی کوششیں بھی رائیگاں جائیں۔تمہیں لوگ زندیق وکا فراور معتزلی قرار دیں بار بار تمہیں تنگ کیا جائے۔مجرموں کی طرح بیانات ہوں کبھی ایک اقرار نامہ لیا جائے کبھی دوسرا مصالحت نامہ طے ہو۔شاہ ابن سعود جیسے عالی مقام کے سامنے بھی اقرار اصلاح کرو تو وطن واپس آکر سب قول و قرار کو یوں بھلا دو کہ جیسے کبھی ہوئے ہی نہ تھے اور ایسی ضد کرو کہ تمہارا استاد بھی تمہیں ضدی کہنے پر مجبور ہو جائے۔ان مناقشات کو عمر بھر اتنا بڑھاؤ کہ لوگ تمہیں ساری عمر انگاروں پر لوفتا رکھیں اور مرکز ہی ان سے نجات حاصل کرو۔تمہارے پیدا کردہ جھگڑے نہیں نہیں بلکہ رگڑے ” سے جماعت کو بہت نقصان پہنچے اس کا نظم ونسق تباہ