اصحاب احمد (جلد 5) — Page 452
۴۵۷ کی ضرورت ہے کہ بعض نوجوان دور دراز تبلیغ اسلام کرنے کے واسطے اپنی زندگیاں وقف کر یں۔اگر چہ اس بقیہ حاشیہ: - متفق ہو گئے تھے تب تو کفر پر موت والا امر وقوع پذیر نہیں ہونا تھا۔اور اگر وہ اس سے متفق نہیں ہوئے تھے تو انہوں نے گویا اس شخص کا جنازہ پڑھا جو ایک مامور من اللہ کو مسلمان قرار دیتا تھا اور مولوی صاحب جنازہ پڑھنے والے اسے کا فرقرار دیتے تھے۔اہل فرقہ کے نزدیک مولوی محمد حسین صاحب بہر حال ان کے استاد کے استاد تھے۔اس لئے ان کا درجہ بڑا تھا اور ان کا فتویٰ بھی قابل قبول ہوگا۔اس لئے طبعی نتیجہ تو یہی اخذ ہوتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کفر کی موت مرے کیونکہ حدیث کی رو سے بوجہ ایک مسلمان کو ( جوان کے استاد کے استاد کے فتویٰ کی رو سے مسلمان تھا) کافر کہنے کے کفر خود ان پر لوٹ کر پڑ گیا۔چہارم۔دسمبر ۱۹۰۶ء کو جلسہ احمد یہ منعقدہ آرہ کے موقع پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے تبلیغ واشاعت وغیرہ کی تلقین کی (صفحہ ۲۱۳ ۲۱۴) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک جماعت احمدیہ کا فرنہ تھی۔جیسا کہ وہ دیگر مواقع پر کہتے تھے اور اگر کا فرتھی تو اس جلسہ میں انہوں نے منافقت سے کام لیا اور منافق کا درجہ کا فر سے بھی نچلا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الْمُنفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۲۰ اس صورت میں بھی ان کی کفر کی موت ثابت ہوتی ہے۔فیصله ونشان نمبر ۱۶ بطل احمدیت دلائل سے آراستہ بیان دیتا تھا اور مولوی ثناء اللہ حج قاطعہ و براہین ساطعہ کا جواب پھبتیوں اور استہزاء سے دیتے تھے۔اگر بطل احمدیت کے دلائل قاطعہ اور مسکت نہ ہوتے تو حریف ابطال کے لئے دلائل کی بجائے زبان درازی کی طرف رجوع کیوں کرتا ؟ یہ گویا اس کا اعتراف شکست تھا۔فیصلہ ونشان نمبر ۱۷ جماعت احمدیہ سے متعدد مناظرات کا سیرت نگار نے ذکر کیا ہے لیکن مباحثہ مد کا ذکر تک کرنے سے احتراز کیا ہے حالانکہ اعجاز احمدی کا سیرت ثنائی میں ذکر کیا ہے۔( مثلا صفحہ ۱۷ تا۱۷۲ ) اور اس پر یہ امرمخفی نہیں کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جماعت احمدیہ کے نہایت بلند پایہ عالم تھے اور حضرت مسیح موعود نے اس مباحثہ کے لئے ان کو بھجوایا تھا اور ان کی شکست کی زد براہ راست حضرت اقدس پر پڑتی تھی لیکن اس مباحثہ کے ذکر سے کنی کترائی ہے۔اس سے بڑھ کر اعتراف شکست کیا ہوگا۔یوں نظر آتا ہے کہ جیسے کوئی پتلا ، دبلا منحنی ، بونا،