اصحاب احمد (جلد 5) — Page 438
۴۴۳ کسی مہمان کی (خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو یا نہ داخل ہو ) ذراسی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے مخلصین بقیہ حاشیہ: - (۴) پھر مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور سے سند حاصل کی۔(صفحہ ۹۷) (۵) مدرسہ دیوبند کے مدرس اعلی شیخ الہند مولوی محمود الحسن اسیر مالٹا سے معقول و منقول کی کتب درسیہ پڑھ کر سند حاصل کی وہاں ریاضی بھی پڑھی۔مولوی محمود الحسن صاحب کی بیالیس سال تک کی تدریس کا علم ہوتا ہے۔عرصہ دراز تک وہاں کے صدر مدرس رہے۔مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا سید انورشاہ،مولانا حسین احمد مدنی ، مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمدعلی لاہوری آپ کے اجل شاگردوں میں سے تھے۔(صفحہ ۹۸) (1) معقولات میں مشہور عالم مولانا احمد حسن کانپوری صدر مدرس فیض عام کانپور سے جملہ کتب نصاب پڑھیں اور مدرسہ کے درس حدیث میں بھی شمولیت کی وہاں آپ کو سند عطا ہوئی اور آپ کی دستار بندی بھی ہوئی۔(صفحہ ۱۰۰،۹۹) (ج) فن مناظرہ میں کمال چودہ سے سولہ سال کے درمیان مولوی صاحب پادریوں وغیرہ سے مناظرے کرنے لگے تھے اور مسکت سوال و جواب سے ان کے منہ پر مُہر خموشی ثبت کر دیتے تھے۔(صفحہ ۷ ۸ تا ۸۹) "مناظرہ (کے) فن شریف کو کمال تک پہنچایا۔“ ( صفحه ۱۲) یہ فن شریف آپ کو آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا۔‘‘ (صفحہ ۸۹ ) آپ کے استاد نے آپ کو میدان مناظرہ کے لائق سمجھا ( صفہ ۱۰۴) آپ کو ۱۹۰۴ء میں بہترین مناظر سمجھا جاتا تھا۔(صفحہ ۳۱۲) قدرت نے مولانا کوطبعا وفطرتاً ایسادماغ دیا تھا اور حاضر جوابی کا وہ ملکہ عطا فرمایا تھا کہ عوام نہیں ، خواص بھی یہ کہہ اٹھتے تھے کہ آپ مناظرہ ہی کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔تعلیم سے فارغ ہوتے ہی آپ نے چوڑخہ لڑائی لڑنی شروع کر دی۔“ ( صفحه ۳۰۹) (د) خدمت فرقہ اہلحدیث آپ نے ملک ہند کے طول و عرض میں انجمن ہائے اہلحدیث قائم کیں۔پھر صوبائی جمعیت اہلحدیث کا قیام عمل میں لایا اور آل انڈیا اہلحدیث کا نفرنس قائم کی بلکہ جمعیت علماء ہند کے قیام کی تحریک کی ۱۹۲۶ء میں حج کے موقع پر مؤتمر اسلامی میں شمولیت کے لئے آل انڈیا اہلحدیث کی طرف سے آپ سمیت تین علماء تجویز