اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 424 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 424

۴۲۹ آنعزیز کو بطور خانہ داماد “ یہاں رکھوں۔اس طرح میری جائیداد خاندان سے باہر جانے سے محفوظ رہے گی اور تم مستقل طور پر یہاں رہائش رکھو تا کہ میرے بعد جائیداد کے مالک بنو۔میں نے بلایا تھا تا کہ تم خود حالات دیکھ سکو۔میں نے خط میں خانہ دامادی کا ذکر نہیں کیا تھا کہ مولوی صاحب اس بات کو نہیں مانیں گے۔میں نے سوچا کہ اس میں کسی قسم کا خسارہ نہیں اور تایا جان کی خدمت بھی ہو جائے گی۔میں اس امر پر آمادہ ہو گیا لیکن حضرت والد صاحب کے عدم اتفاق کا خوف بھی تھا۔اس لئے عرض کیا کہ میں مفصل احوال والد صاحب کی خدمت میں تحریر کرتا ہوں۔میں تو متفق ہوں لیکن ان کی رضامندی بھی ضروری ہے۔مجھے توقع ہے کہ حالات کے پیش نظر وہ بھی متفق ہو جائیں گے۔حضرت والد صاحب کا جواب آیا تو سخت غصہ سے بھرا ہوا تھا۔جس کا لب لباب یہ تھا کہ تم کو شرم آنی چاہئے کہ تمہارے والد نے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے مسیح کی خاطر اپنا وطن اور اقارب کو چھوڑ چھاڑ کر قادیان ڈیرہ آجمایا اور دنیوی حرص و آز کو خیر آباد کہتے ہوئے پشاور کالج کی اعلیٰ ملازمت ترک کر دی اور قادیان میں پندرہ روپے کی ملازمت قبول کرلی اور آج تک اپنے بھائیوں سے جدی جائیداد کا حصہ یا اراضی کا غلہ نہیں لیا۔حالانکہ میرا بھی ویسا ہی حق تھا جیسا کہ ان کا تھا لیکن مجھے تم پر افسوس ہے کہ تم دین چھوڑ کر دنیا کی طرف جانا چاہتے ہو۔حالانکہ تمہیں میری طرح دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہئے تھا تم فوراً قادیان واپس آجاؤ۔تایا جان جو میرے آنے سے جو ان نظر آتے تھے کہ انہیں ایک سہارا مل گیا ہے۔خط پڑھ کر ایک کملائے ہوئے پودے کی طرح ہو گئے اور اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے اور باوجود یکہ ابھی ڈیڑھ ماہ کی تعطیلات باقی تھیں میں دوسرے روز ہی وہاں سے قادیان کی طرف روانہ ہو گیا۔تقسیم ملک کے باعث ہمیں قادیان ترک کرنا پڑا۔بالآخر ۱۹۵۲ء میں میں نے اپنے وطن موضع گھنڈی پیراں ( کشمیر ) میں مستقل قیام کا عزم کر لیا اور اہل و عیال سمیت وہاں جا پہنچا۔ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں کمرے میں چار پائی پر لیٹا ہوا ہوں کہ اچانک حضرت والد صاحب کمرے میں داخل ہوئے لیکن آپ نہایت غصہ کی حالت میں ہیں آتے ہی آپ نے بڑے غصہ سے مجھے فرمایا کہ تمہیں جو میں نے کہا تھا کہ مرکز کو نہ چھوڑ نا تم پھر یہاں آگئے یہ کہہ کر آپ نے مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور کمرے سے باہر نکال دیا۔چنانچہ میں اپنا ارادہ ترک کر کے ربوہ چلا آیا اور یہاں قیام کر لیا۔اس سے ظاہر ہے کہ مرکز میں قیام کے متعلق حضرت والد صاحب کا جذبہ کس قدر شدید تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے آپ کی وفات کے بعد نہ چاہا کہ آپ کی نصیحت پر میں کار بند نہ ہوں۔اور آپ کا یہ شدید جذ بہ اور آپ کی روحانی برکت مجھے پر پھر مرکز میں واپس لانے کا موجب ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔