اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 423 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 423

۴۲۸ دودھ اور ایک چمچہ نشاستہ ڈال کر گھی کا بگھار لگا کر تیار کیا جاتا۔اور یہ دماغ کی تقویت کے لئے سنتا اور بہترین نسخہ ہے رات کا کھانا ہمیشہ عشاء کے بعد کھاتے۔آپ کھانا صرف وقت مقررہ پر کھاتے تھے بعد میں کسی کی طرف سے کوئی چیز آتی تو آپ نہیں کھاتے تھے۔اگر کھانی ہوتی تو دوسرے وقت کھانے کے موقع پر کھاتے۔آپ کھانا چبا چبا کر اور آہستہ آہستہ کھاتے تھے۔وسمہ مہندی کا استعمال پہلے آپ کا یہ طریق رہا کہ ہر جمعہ کو پہلے تو آپ مہندی لگا لیتے اور تھوڑی دیر بعد دہی میں وسمہ ڈال کر لگاتے۔ترپھلہ ( ہلیلہ۔بلیلہ اور آملہ ) کوئی دو دو آنے کے لے کر ایک لوہ چینی کے بڑے پیالے میں ڈال رکھتے تھے۔اور ساتھ ہی لوہے کا ٹکڑہ اور مناسب مقدار میں پانی ڈال دیتے تھے۔اس پانی کے ساتھ مہندی لگا لیتے تھے۔آپ تہجد کی نماز دو بجے شروع کرتے لیکن با وجود ایسی متواتر شب زندہ داری کے آپ نماز فجر کے بعد کبھی نہیں سوتے تھے۔لیکن بہشتی مقبرہ میں دعا کے لئے اور سیر کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔البتہ موسم گرما میں دو پہر کو قیلولہ فرماتے۔آپ بچوں کو بچپن سے نماز کی عادت ڈالتے تھے۔جب میں ابھی پانچ چھ سال کا تھا۔آپ مجھے گود میں اٹھا کر مسجد مبارک میں لے جاتے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کی نماز اتنی لمبی ہوتی کہ میں آدھی نیند مسجد میں ہی پوری کر لیتا۔مجھے ساتھ لے جانے سے مقصود یہ تھا کہ مجھے اس عمر سے نماز اور نماز بھی مسجد میں اور باجماعت ادا کرنے کی عادت ہو جائے۔بعد نماز آپ مجھے سوئے ہوئے کو اٹھا کر گھر لے آتے۔لیکن مسجد میں ضرور لے جاتے تھے۔اس طرح بفضلہ تعالیٰ مجھے نماز کی عادت پڑ گئی۔ہمیں آپ خاص طور پر دو باتوں کی تاکید فرماتے تھے ایک یہ کہ خلافت سے ہمیشہ وابستہ رہو اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل کو اپنا نصب العین جانو۔تایا جان حضرت سید محمد صادق صاحب مرحوم نے حضرت والد صاحب کو خط لکھا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔میری دولڑکیاں جوان ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ میری بڑی بیٹی کی شادی عزیزم سید مبارک احمد سے کر دوں۔آپ عزیز کو میرے پاس کشمیر بھیج دیں تا کہ وہ بھی یہاں کے حالات دیکھ لے۔موسمی تعطیلات میں میں موضع لدرون میں ان کے پاس پہنچا۔آپ نے علیحدگی میں باتوں باتوں میں رشتہ کے متعلق بھی ذکر کیا اور اپنے خانگی حالات بتاتے ہوئے فرمایا کہ اب میری عمر کا آخر ہے۔نرینہ اولا دکوئی نہیں۔میری یہ خواہش ہے کہ