اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 415 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 415

۴۲۰ وجود ہیں ان کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تھی وہ نماز کیا تھی بس ان کی امامت میں ایک نماز پڑھ لینی کافی ہے۔حاضرین نے سن کر کہا اب ٹھیک ہے آپ ضرور قادیان ہو آئے ہیں۔جو -۳۲ از استاذی المکرم حافظ مبارک احمد صاحب فاضل حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے تلامذہ میں سے بہت سے ہیں۔خاکسار کو بھی آپ کے تلمذ کا شرف حاصل ہے۔حضرت مولوی صاحب کامل استادوں میں سے تھے اور طالب علموں کے ساتھ نہایت شفقت اور انس سے پیش آیا کرتے تھے۔مجھے یہ بھی فخر حاصل ہے کہ میں کئی سال تک آپ کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں میں علی وجہ البصیرت یہ کہ سکتا ہوں کہ آپ عالم جید اور متقی اور متورع تھے۔تقویٰ، ورع ، زہد اور خشوع اور تواضع ان صفات سے متصف تھے اور قناعت ، توکل، شکر، یقین اور صبر و استقامت اور اخلاص اور صدق وذکر اور فتوت وفراست اور خصوصاً دعا میں آپ ملکہ تامہ رکھتے تھے فقیر منش انسان تھے۔حرص و آز سے پاک تھے۔حکامِ الہیہ کے پابند تھے اور حقوق العباد کے آپ پوری طرح ادا کرنے والے تھے۔آپ مفسر، محدث منطقی فلسفی ادیب غرض وہ تمام علوم مروجہ سابقہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔جماعت احمدیہ کے ممتاز عالم تھے۔تقریباً تمام علماء جماعت آپ کی شاگردی اور آپ کے فیوض سے مستفیض تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت فرما دے اور آپ کی اولاد پر اپنا فضل و کرم کرے۔ہم لوگ آپ کی کیا تعریف کر سکتے ہیں جس کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہو۔از اخویم محترم شیخ عبدالقادر صاحب ( سابق سود اگر مل ) مربی لاہور (مصنف حیات طیبہ وغیرہ) حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ہمارے استاد تھے۔جب ہم نے مدرسہ احمدیہ سے فارغ ہوکر خاکسار مؤلف کو یاد پڑتا ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سرینگر کے ایک ایسے واقعہ کا ایک خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا کہ ایک کشمیری صاحب بیعت کرنا چاہتے تھے اور حضور نے ان کو حضرت حافظ روشن علی صاحب کے سپرد کیا تھا اور حافظ صاحب نے پاس واپس آکر ہنستے ہوئے بتایا کہ وہ بیان کرتا ہے کہ میں نے قادیان میں ایک ایسے بزرگ کی امامت میں نماز پڑھی ہے کہ اس بزرگ کی ایک نماز ساکنان کشمیر کی ساری عمر کی نمازوں کے برابر ہے ،سواس بات سے پتہ لگا کہ وہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کی اقتداء میں نماز پڑھ آیا ہے اور واقعی قادیان گیا تھا۔