اصحاب احمد (جلد 5) — Page 394
۳۹۹ -۲۲ از استاذی المکرم مولا نا ارجمند خان صاحب فاضل سابق وائس پرنسپل جامعہ احمدیہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذكر وامواتكم بالخير 9 کے مطابق استاذی المکرم حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کے متعلق کچھ تاثرات درج ذیل کرتا ہوں۔1911ء میں راقم الحروف پشاور شہر کے ایک عربی مدرسہ میں تعلیم پارہا تھا۔اس دوران میں مکرمی جناب صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب احمدی سکنہ بازید خیل ( جو شہر پشاور سے چار میل پر واقع ہے ) کے ساتھ احمدیت کے متعلق گفتگو اور سوال وجواب کا سلسلہ کچھ مدت جاری رہا۔آخر کار صاحبزادہ موصوف کی ترغیب پر میں قادیان میں اس جلسہ سالانہ پر حاضر ہوا جو بجائے دسمبر کے مارچ کے آخر یا اپریل کے ابتداء میں منعقد ہوا تھا۔صاحبزادہ صاحب موصوف بھی اس جلسہ سالانہ پر قادیان میں موجود تھے۔ان کی ملاقات اور تبلیغ بلیغ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفتہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور بیعت کے وقت صاحبزادہ موصوف کے علاوہ کا بل سے آمدہ بعض دوست بھی شریک بیعت تھے۔اس وقت میں نے صاحبزادہ صاحب سے عرض کیا کہ میں ایک دو ماہ قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ٹھہر نا چاہتا ہوں۔چنانچہ ان کی درخواست اور سفارش پر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب سے تحصیل علم کی سعادت نصیب ہوئی۔میں نے آپ سے کتاب ” شرح عقائد نسفی “ پڑھنا شروع کی۔میں اس وقت اردو زبان سے ناواقف تھا۔آپ نہایت شفقت سے پڑھاتے اور فارسی زبان میں اچھی طرح سمجھاتے تھے۔عام طور پر رسالہ تفخیذ الا ذہان کا دفتر پڑھانے کے لئے مقرر تھا لیکن بعض اوقات اگر خاکسار کی طرف سے کچھ دیر ہو جاتی تو حضرت مولانا از راه رحمت خود مہمان خانہ میں پڑھانے کے لئے تشریف لے آتے۔جہاں خاکسار مقیم تھا۔اللہ اللہ ! کیا بے نفسی کیا للہیت اور کیا شفقت تھی جو آپ کو اپنے ایک ادنیٰ غریب الوطن شاگرد کے ساتھ تھی۔اس کیفیت کی یاد سے اب بھی دل میں ایک سرور کی حالت پیدا ہوتی ہے۔دار الامان میں دوماہ گزار کر حضرت مولانا صاحب کی اجازت سے میں پشاور چلا گیا اور چند روز کے بعد صاحبزادہ صاحب کے گاؤں بازید خیل میں پہنچا اور ان سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا کہ اب میرا پڑھنا پیشاور والے مدرسہ میں بہت مشکل ہے۔اگر میں اب احمدیت کا اظہار کرتا ہوں تو مدرسہ والے مجھ کو کا فرسمجھ کر داخل نہیں ہونے دیتے۔اور اگر احمدیت کے عقیدہ کو چھپاتا ہوں تو یہ بزدلی میں برداشت نہیں کر سکتا۔اس لئے آپ