اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 18 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 18

۱۸ نحوی سے ملنا چاہتا ہوں۔پھر اس نے پوچھا کہ رہو گے کس جگہ ؟ تو آپ نے کہا کہ طالب علم کی جگہ مسجد ہی ہوتی ہے۔اس نے کہا کہ اٹک اور خیر آباد مسجدوں میں سے ایک کے ساتھ میرا ایک بالا خانہ ہے۔آپ اسی میں رہیں اور روشنی وغیرہ ضروریات میں مہیا کر دونگا۔مولوی عبداللہ صاحب ہمارے محلہ میں ہی رہتے ہیں اور ان کے پاس جانے کا راستہ بتایا۔تیسرا کرشمہ جب آپ مسجد کے پاس پہنچے تو گھر سے پتہ لگا کہ مولوی صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ساتھ مسجد میں صرف ایک نو جوان تھا جو وظیفہ کر رہا تھا۔اس کا نام مقبول شاہ تھا جس کے والد کا نام فقیر شاہ تھا (اور اس کو حضرت مولوی صاحب نے صرف پڑھانی شروع کی تھی اور جب آپ نے پشاور چھوڑا تو اسے اپنے استاد کے سپر د کر آئے اور اس نے علم پوری طرح سے حاصل کیا ) اب وظیفہ سے فارغ ہو کر اس نے پوچھا۔کیا آپ کا وطن کشمیر ہے۔آپ نے کہا ہاں۔ساتھ ہی اس نے کہا کہ آپ کی شکل ہمارے کشمیر کے رشتہ داروں سے ملتی ہے اور دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ وہ گیلانی سید ہیں۔آپ نے کہا کہ میں بھی گیلانی ہوں۔یہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ ہمارے رشتہ دار ہیں یا نہیں۔البتہ ہمارے دادا کے چھوٹے بھائی شاہ محمد غوث کی اولاد پشاور میں رہتی ہے۔اس نے کہا کہ میں انہی کی اولاد میں سے ہوں اور جب میں بیٹھا ہوا تھا تو میری طبیعت پر اثر پڑ رہا تھا کہ آپ ہمارے رشتہ دار ہیں۔اسی لئے میں نے آپ سے دریافت کیا۔تعلیم کے لئے جب تک آپ پشاور میں قیام کریں کھانا ہمارے ہاں کھائیں۔آپ نے کہا کہ اس طرح اس شکل کے آدمی نے جو اسی محلہ کا رہنے والا ہے ہمارا کھانا مقرر کر دیا ہے۔اس نے کہا کہ اس کا نام حاجی غلام رضا ہے۔اتنے میں حاجی صاحب بھی آگئے۔اس نوجوان نے کہا کہ یہ ہمارے ہاں کھانا کھایا کریں گے۔ہمارے رشتہ دار ہیں۔حاجی صاحب نے کہا کہ اب میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔آخر فیصلہ ہوا کہ حضرت مولوی صاحب رشتہ دار کے ہاں کھانا کھایا کریں اور آپ کا ساتھی دوکان سے کھانا منگوایا کرے لیکن حاجی صاحب باوجود اصرار کے اس بات پر بھی راضی نہ ہوئے کہ ایک آدمی کا کھانا دوکان سے بند کر دیا جائے۔بلکہ کہا یہ نہیں ہو سکتا۔دو آدمیوں کا کھانا منگوانا پڑے گا۔ہاں ایک کا کھانا کسی اور کو دے دیا کرو۔چنانچہ ایک نوجوان کو کھانا دیا جاتا تھا جو حضرت مولوی صاحب سے پڑھتا تھا۔چھ ماہ آپ کے یہاں ضائع ہوئے جس مولوی کا نام آپ سنتے اس سے سبق شروع کر دیتے لیکن سبق ٹھیک نہ ہوتا چھ ماہ بعد ضلع ہزارہ کے ایک سید مولوی نے جو وہابیوں کے سخت دشمن تھے اپنے استاد مولوی محمد ایوب کو کہا کہ ہمارے علاقہ کا ایک سید طالب علم ہے وہ فلاں مولوی کے پاس گیا لیکن اس کا سبق نہیں ہو سکا۔