اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 386 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 386

۳۹۱ افسر مدرسہ کے فرائض بھی ادا فرماتے تھے۔پھر سلسلہ کے مفتی بھی تھے۔کم ہی سال ایسے ہوئے ہیں کہ آپ مدرسہ یا یو نیورسٹی کا مجوزہ نصاب پورے کا پورا ختم کر اسکے ہوں مگر آپ کی توجہ اور دعاؤں کا نتیجہ ہوتا تھا کہ آپ کے شاگرد عموماً اچھے نمبروں پر کامیاب ہوتے تھے۔جس سال ہم نے مولوی فاضل کا امتحان دینا تھا۔اس سال ایک غلط فہمی کے باعث یہ سمجھا گیا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کا منشاء ہے کہ علماء کے لئے مولوی فاضل کی ڈگری کی کیا ضرورت ہے وہ سیدھے مبلغین کلاس میں جایا کریں۔چنانچہ ہم چند ماہ تک مولوی فاضل کلاس چھوڑ کر حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کے پاس مبلغین کلاس میں پڑھتے رہے۔ایک دن مجلس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے برسبیل تذکرہ فرمایا کہ ہمارے علماء کی عمریں چھوٹی ہوتیں ہیں۔اگر ان کے پاس یونیورسٹی کی سند نہ ہوا کرے تو ان کو دوسرے لوگ جلدی عالم تسلیم نہ کیا کریں۔اس پر عرض کیا گیا کہ مدرسہ احمدیہ میں تو مولوی فاضل کلاس اس لئے بند کر دی گئی ہے کہ سمجھا گیا تھا کہ حضور کا منشاء ہے کہ سندوں کی کوئی ضرورت نہیں۔حضور نے فرمایا کہ میرا ہر گز یہ منشاء نہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ہم جب دوسرے دن دوبارہ مولوی فاضل کلاس میں داخلہ کے لئے گئے تو شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے جو ان دنوں مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر تھے اس بناء پر داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ اب تیاری کے لئے وقت تھوڑا ہے تم لوگ فیل ہو جاؤ گے اور مدرسہ کی بدنامی ہوگی۔جب حضرت مولوی صاحب سے یہ ذکر ہوا تو آپ نے ہمیں فرمایا کہ میں بھی باہر وقت دے کر نصاب ختم کراؤں گا۔تم لوگ بے شک اپنی ذمہ داری پر داخلہ لے لو۔چنانچہ دوسرے روز میں نے سب طلبہ کی طرف سے یہی درخواست دے دی۔شیخ صاحب مجبور ہو گئے اور پڑھائی جاری ہوگئی حضرت مولوی صاحب دیگر اساتذہ کی طرح مدرسہ کے بعد بھی ہمیں پڑھاتے رہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اور ہمارے اساتذہ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ ہم ساتوں کے ساتوں کامیاب ہو گئے اور میں اس سال پنجاب یو نیورسٹی میں اول نمبر پر پاس ہوا۔الحمد للہ۔حضرت مولوی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غضنفر ( شیر ) کا خطاب عطا فرمایا تھا۔غیر احمدی علماء بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو میں نے حضرت مولوی صاحب کا بڑے احترام سے ذکر کرتے سنا ہے۔میں بہت کچھ لکھتا مگر وقت کی تنگی کے باعث صرف یہ چند سطور جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کی خدمت میں ثواب کی نیت سے لکھ رہا ہوں۔شاید حضرت مولوی صاحب کے ذکر خیر میں شریک ہو سکوں۔میرا ارادہ ہے کہ جس طرح میں اس سے قبل رسالہ الفرقان کا حضرت میر محمد اسحق نمبر اور حضرت