اصحاب احمد (جلد 5) — Page 373
۳۷۸ فاضل ( حال ہیڈ کلرک نظارت بیت المال ربوہ) جامعہ میں بطور کلرک کام کرتے تھے۔خاکسار بھی ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔اغلباً اسی بناء پر جب اسامی تخفیف میں آگئی تو حضرت مولوی صاحب نے مجھے ایک دن یاد فرمایا۔اور میرے حاضر ہونے پر اسامی کی تخفیف کا ذکر کر کے فرمایا کہ آپ کچھ دفتری کام بھی کر لیا کریں۔میں نے بخوشی اس کو منظور کر لیا اور کچھ وقت جامعہ کے دفتر میں دینے لگا۔جب میرا داخلہ سنسکرت کلاس میں ہو گیا اور مبلغین کلاس سے بھی میں فارغ ہو گیا۔تو بوجہ اس کے کہ مجھے صرف سنسکرت ہی پڑھنی ہوتی تھی۔میرے پاس وقت کافی تھا۔اس لئے میں دفتر میں زیادہ وقت دینے لگا اور اس طرح مجھے نہایت ہی قریب سے آپ کے اخلاق عالیہ کو دیکھنے کا موقع ملا۔اور آپ کے ان اخلاق کی بناء پر جامعہ کے جملہ پروفیسر صاحبان آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔آپ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ دفتری کام کو زیادہ التوا میں نہ رکھا جائے۔اس لئے آخری گھنٹیاں آپ اس کام کے لئے خالی رکھتے تھے۔اور دفتری کا غذات ملاحظہ فرماتے اور ان کے بارے میں ہدایات دیتے تھے۔کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ آپ کو کسی کام کی وجہ سے جلدی جامعہ سے تشریف لے جانا ہوتا تو مجھ سے دریافت فرما کر دستخط کرانے والی چٹھیوں پر دستخط فرما دیتے۔اور بعض ضروری چٹھیاں ایسی ہوتیں جو اسی دن بھجوانی ضروری ہوتیں تو ان کے جواب کا مسودہ دیکھنے کے بعد اصلاح فرما دیتے اور مجھ سے سادہ کاغذ لے کر دستخط کر کے فرماتے چٹھی صاف لکھ کر اور مہر لگا کر بھیج دینا۔ایک دن ایسا ہی واقعہ در پیش تھا۔اور میرے دل میں ایکا ایک یہ خیال گزرا کہ اس رنگ میں ہر ایک پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے کہ آپ نے دستخط سادہ کاغذ پر کئے اور اس کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا۔میاں اتقوا فراسة المؤمن سے میں بلا وجہ دستخط نہیں کر دیتا۔میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری طبیعت نیک ہے اور اس میں شر نہیں۔میں نے جزاکم اللہ عرض کیا اور اپنے اس وسوسے پر استغفار کیا۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٹی میرے اس نیک اور بزرگ استاذ کی فراست کے مطابق مجھے نیکی پر قائم رہنے کی تو فیق عطا فرما۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ سے آپ کی محبت اور قبل از وقت حضور کو مصلح موعود تسلیم کرنا آپ نے کئی مرتبہ کلاس میں درس دیتے ہوئے فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام کی بناء پر حضرت محمود کو موعود فرزند سمجھتا ہوں کیونکہ حضور نے وہاں تحریر فرمایا ہے کہ :۔