اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 369 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 369

۳۷۴ طرف سے (مولانا) سرورشاہ پیش ہوئے۔مقام بحث ایک ایسا بن (جنگل ) دکھائی دیتا تھا جس میں ایک طرف بھیڑ یا چیختا تھا اور دوسری طرف شیر غرا تا تھا۔ان اشعار کو پڑھ کر میرے دل میں آپ کی عزت بہت بڑھ گئی۔اور آپ کے علم وفضل کی بناء پر شدید خواہش پیدا ہوئی کہ آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا مجھے بھی فخر حاصل ہو۔چنانچہ مدرسہ احمدیہ کی ساتویں جماعت میں کامیاب ہو کر خاکسار جامعہ احمدیہ کے درجہ اولیٰ میں داخل ہوا۔آپ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک متواتر چار سال آپ سے قرآن مجید کی تفسیر علم منطق وفلسفہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کا زریں موقع ملا۔آپ قرآن مجید کے اعلیٰ درجہ کے مفسر۔منطق وفلسفہ کے ماہر۔احمدیت کی متاع گراں اور بزم انس وقدس کے چراغ فروزاں تھے۔آپ اپنے فیضان تعلیم وتربیت سے ایک دو نہیں کثرت سے ایسے شاگرد پیدا کر گئے جو آج احمدیت کی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور جن کی اسلامی خدمات کی گونج ایشیا۔یورپ۔امریکہ اور افریقہ وغیرہ بہت سے ممالک میں سنی جارہی ہے۔جہاں آپ بہت بڑے فاضل اور جید عالم تھے وہاں اخلاق عالیہ سے بھی مزین تھے۔چنانچہ استغناء تواضع اور فروتنی۔حسن کرم اور جو دوسخا۔شفقت علی خلق اللہ۔کمال خود داری اور مروت آپ کی فطرت کے خصوصی جو ہر تھے۔مسجد مبارک میں آپ با قاعدگی کے ساتھ نماز باجماعت کے عادی تھے اور آخری عمر میں باوجود پیرانہ سالی کے نماز با جماعت اس پابندی سے ادا فرماتے تھے کہ وفات سے قبل سخت مجبوری کے باوجود نماز با جماعت ترک نہیں کی۔نماز میں آپ کی محویت کا خاص عالم ہوتا تھا اور اسی محویت کی وجہ سے آپ کی نماز عام طور پر لمبی ہوتی تھی۔استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی اس محویت کا تذکرہ یوں فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب پہلے تو سورۃ فاتحہ تلاوت فرماتے ہیں اس کے بعد اس کا لفظی ترجمہ کرتے ہیں ازاں بعد با محاورہ ترجمہ اور اس کے بعد وہ اس کی تفسیر میں محو ہو جاتے ہیں۔آپ کی محویت اور انہاک کا عجیب عالم تھا۔میں نے سینکڑوں نمازیں آپ کی اقتداء میں ادا کیں اور ان میں ایک خاص لطف پایا۔آپ کی نماز کے لمبا ہونے کے سلسلہ میں ایک واقعہ یاد آیا۔ایک مرتبہ کسی غلط فہمی کی بناء پر مسجد مبارک کے خادم نے آپ سے کہا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نماز کے لئے تشریف نہیں لائیں گے۔اغلبا یہ عصر کی نماز کا واقعہ ہے حضرت مولوی صاحب نے نماز شروع کر دی۔لیکن دوسری ہی رکعت میں حضور ایدہ اللہ تعالی تشریف لے آئے اور نماز میں شریک ہو گئے۔نماز کے بعد حضور کی خدمت میں خادم مسجد کی غلطی کا ذکر کیا۔حضور نے فرمایا نماز