اصحاب احمد (جلد 5) — Page 365
جالندھری سے غالبا ۳۳ ۱۹۳۴ء میں مناظرہ کر کے حضرت مولوی صاحب مرحوم کی ملاقات کے لئے قادیان جانے لگے دریافت کرنے پر پادری صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب مرحوم ہی واحد عالم ہیں جن کے علم منطق وفلسفہ کا میں قائل ہوں اور ان کو استاد مانتا ہوں۔اور ان کی علو مرتبت کے لئے کبھی کبھی ملاقات کے لئے جایا کرتا ہوں۔میں نے خود پادری صاحب کو مولوی صاحب کے مکان پر ملاقات کرتے دیکھا ہے۔بمصداق حديث نبوى حــب الــوطــن من الایمان حضرت مولوی صاحب کشمیر اور ہزارہ کے احمدیوں سے خاص الفت اور ہمدردی اور خاطر تواضع سے پیش آیا کرتے تھے اور جلسہ سالانہ کے موقع پر ان احباب کرام کی گھر پر مہمان نوازی فرماتے تھے۔اور اکثر اوقات بردکان حکیم عبد الرحمن صاحب کا غانی اور دکان حکیم نظام جان صاحب شرف ملاقات عطا کرتے تھے اور وعظ ونصیحت سے ان کی دلجوئی کرتے اور کئی کئی گھنٹے ان کی مجلس میں تشریف فرما رہتے۔جب احمد یہ نیشنل کور کا رکنان صدر انجمن میں جاری ہوئی تو سب کارکنان کو ہفتہ میں ایک بارخا کی وردی پہنی لازم ہوگئی تھی۔با وجود ضعیف المعری اور پرانی طرز کا ہونے کے آپ نے خاکی وردی بنوائی اور زیب تن کر کے باہر جاتے اور واپس آتے اور اس امر کو برا نہیں منایا بلکہ اس کو خوشی سے پسند کیا۔آپ مسجد مبارک میں ہمیشہ اول صف میں بیٹھا کرتے تھے۔اور دورکعت نماز تحیۃ المسجد کے طور پر ضرور پڑھتے تھے۔سخت سردی اور سخت گرمی اور بارش میں بھی باجماعت ادا ئیگی نماز میں روک نہ بنتی تھی۔بلکہ بسا اوقات سخت بخار کی حالت میں بھی آپ مسجد میں تشریف لے آتے تھے۔ایک مرتبہ آپ کو سخت بخار تھا تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر خاکسار کے والد محترم عبدالرحیم خان صاحب مرحوم درویش اور ایک اور دوست نے سہارا دے کر گھر پہنچایا۔با وجود حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا استاد ہونے کے آپ حضور کی مجلسِ عرفان میں نہایت خاموشی اور کامل توجہ سے اور نظر نیچی کر کے بیٹھتے تھے۔آپ کو کبھی نظر اونچی کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ایک مرتبہ مسجد مبارک میں لوگ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت میر مہدی حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے آیت قرآنی لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِي * تلاوت کی۔مولوی صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ امام کی موجودگی میں باتیں اور شور کرنا سوء ادبی اور سخت گناہ ہے۔جامعہ احمدیہ مسجد نور کی مغربی جانب تھا۔آپ اپنا فرض عین جان کر اور طلباء کی تعلیم کو لوظ رکھ کر نہایت پابندی وقت کے ساتھ آتے تھے۔اور طلباء کی تعلیمی حالت کو بہتر بنانے میں کوشاں رہتے تھے۔آخری عمر تک آپ کا یہ دستور رہا کہ آپ مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر قریباً روزانہ جا کر دعا کرتے تھے۔جب کبھی آپ نماز جمعہ پڑھاتے تو نماز جمعہ کے بعد قادیان کے الحجرات :