اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 13 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 13

۱۳ آپ کی تلاش اور والد کی طرف سے پڑھائی کی اجازت مولوی سید عبدالکریم شاہ صاحب کو خیال تھا کہ جب کوئی شخص تلاش میں آیا تو یہ لڑکا واپس چلا جائے گا اس لئے انہوں نے پڑھانا شروع نہ کیا۔تیسرے روز ان لوگوں میں سے ایک شخص وہاں آ پہنچا۔جنہیں والد صاحب نے تلاش میں بھیجا تھا۔اس نے والد صاحب کا یہ پیغام دیا کہ اگر سرور شاہ پڑھنا چاہتا ہے تو میری طرف سے اجازت ہے لیکن اگر اس ملک کے طلباء کی طرح اپنا وقت ضائع کرنا چاہتا ہے تو ابھی واپس آ جائے ور نہ میں اس ملک میں نہیں آنے دوں گا۔آپ نے کہا کہ والد صاحب کو کہہ دو کہ میں انشاء اللہ پڑھونگا۔یہ بات سُن کر استاد کو تسلی ہو گئی اور انہوں نے صرف میر اور زلیخا فارسی شروع کرادی۔آپ کے آئندہ سارے علم کی بنیا داسی استاد کے ذریعہ رکھی گئی۔وہ آپ کو حاشیہ شرح وغیرہ جو بھی مل جائے سب سُنا دیتے تھے اور آپ کے ساتھ یہ خاص مہربانی تھی کہ آپ سے حاشیہ زبانی سنتے تھے۔اس سے یہ فائدہ ہوا کہ آپ ابتدائی زمانہ میں ہی شروح کے مطالعہ کرنے اور ان کے سمجھنے پر قادر ہو گئے اور چونکہ وہ سبق سنتے تھے اس لئے آپ کو یاد کرنا پڑتا تھا اس سے آپ کو صرف و نحو پر خاصا عبور حاصل ہو گیا اور شروع سے آخر تک قریباً تمام قرآن مجید کے انہوں نے آپ سے صیغے اور ترکیب پوچھی جس سے عبارت سمجھنے پر آپ کو ہر قسم کا اقتدار حاصل ہو گیا۔کھانے کا انتظام یہ رہا کہ جب والد صاحب کو پیغام پہنچا کہ آپ پڑھائی کرینگے تو والدہ نے دو دن کے اندر ہی آپ کے لئے آٹا چاول گھی وغیرہ سامان بھیج دیا اور آپ کا کھانا استاد کے ہاں پکنے لگا اور تمام عرصہ استاد اور ان کا اکلوتا بیٹا اور آپ اکٹھے کھانا کھاتے رہے۔تحصیلِ علم کے لئے دانہ چلے جانا جب آپ نے وہاں ہدایتہ النحو پڑھ لی تو یہ مشکل آپڑی کہ استاد کی بھانجی آپ پر فریفتہ ہوگئی اور شادی کرنا چاہتی تھی۔اس لئے آپ اس جگہ کو چھوڑ کر دانہ آ گئے۔یہاں آپ کی دو پھوپھیاں بیاہی ہوئی تھیں۔آپ نے یہاں کا فیہ اور اس قسم کی چند کتابیں پڑھیں لیکن دس ماہ بعد ذیل کا واقعہ پیش آنے کی وجہ سے آپ کو دانہ چھوڑنا پڑا۔غیر متقی استاد کو الوداع کہنا ایک روز گاؤں کے رئیس یعنی حضرت مولوی صاحب کے پھوپھا باہر گئے ہوئے تھے کہ ان کے کاردار عنایت اللہ جٹ کی لڑکی کا نکاح استاد صاحب نے ملا خیر اللہ ہیڈ کانسٹیبل سے پڑھ دیا۔رئیس صاحب واپس