اصحاب احمد (جلد 5) — Page 326
۳۳۰ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے جسم کے ذرے ذرے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت داخل ہوگئی ہے۔لیکھرام کے قتل کے واقعہ کے متعلق ایک دفعہ وہ مسجد کے محراب میں کھڑے تقریر کر رہے تھے میں اس وقت چھوٹا تھا لیکن وہ نظارہ مجھے اب تک یاد ہے۔ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سوٹا تھا جسے پنجابی میں کھونڈ کہتے ہیں۔انہوں نے لیکھرام کی شوخیوں اور دیدہ دلیریوں کا ذکر کیا اور پھر کہا لیکھرام کی ان دیدہ دلیریوں کو دیکھ کر ایک دبلا پتلا انسان جو کہ ہر وقت بیمار رہتا ہے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مقابلہ کے لئے نکلا اور اس نے لیکھرام پر ایسے زور کے ساتھ حملہ کیا کہ اس بھڑوے جیہا آدمی نوں چک کے ایس ماریا کہ اس دا نام ونشان وی نہ رہیا۔یعنی اسلام کے اس دبلے پتلے سپاہی نے ہندوؤں کے موٹے گتے جیسے پہلو ان کو یوں اٹھا کر زمین پر گرایا کہ اس کا نام ونشان تک باقی نہ رہا۔گویا انہوں نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے اس روحانی مقابلے کو ایک جسمانی مقابلہ سے تشبیہہ دی اور ایسے مزے کے ساتھ بیان کیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ امیر حمزہ کی داستان بیان ہو رہی ہے انکے کلام کی فصاحت دلوں کو موہ لیتی تھی۔حضرت مسیح موعود کا لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی انہوں نے ہی لاہور میں پڑھا تھا لیکچر سننے والوں نے کہا کہ بے شک لیکچر لکھنے والے کی خوبیوں اور علمی قابلیت کا کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ شخص جس نے یہ لیکچر پڑھا وہ بھی بہت قابل تعریف انسان تھا۔اس کی آواز ایسی شیریں تھی کہ سامعین مسحور ہوئے جاتے تھے۔جب مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے تو ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت گھبراہٹ ہوئی۔کیونکہ آپ نے آریہ سماج کے جلسہ کے لئے جو کہ لاہور میں منعقد ہوا تھا ایک لیکچر تیار کیا۔آپ کو یہ فکر لاحق ہوا کہ اب اسے سنائے گا کون؟ پہلے آپ نے یہ فیصلہ کیا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جا کر یہ لیکچر سنائیں۔جب یہ لیکچر چھپ گیا تو آپ نے مسجد میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ آپ یہ مضمون پڑھ کرسنائیں۔حضرت خلیفہ اول نے مضمون پڑھنا شروع کیا لیکن ابھی آپ نے چار پانچ منٹ ہی مضمون پڑھا ہو گا کہ آپ نے فرمایا۔مولوی صاحب آپ رہنے دیں۔اب کوئی دوسرا آدمی پڑھے اس کے بعد مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھنا شروع کیا مگر ان کو بھی تھوڑی دیر کے بعد روک دیا۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو آپ نے پڑھنے کے لئے فرمایا۔شیخ صاحب نے ایک آدھ منٹ تو بہت بلند آواز سے پڑھا اور یہ خیال کیا گیا کہ وہ پڑھ لیں گے لیکن تھوڑی دیر میں ہی ان کا گلا بھرا گیا اور آواز بیٹھ گئی۔مجھے یاد ہے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ تو بڑی مشکل ہے مولوی عبدالکریم صاحب تو خوب پڑھا کرتے تھے۔اب تو کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آتا۔آخر خلیفہ اول کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ آپ اس مضمون کو پڑھ کر