اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 295 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 295

۲۹۹ صاحب نے اس لئے پیش کیا ہے کہ میں کسی وفات یافتہ شخص کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کی منظوری دوں جب میں اس کاغذ کو دیکھنے لگا تو مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام وفات پا گئے ہیں ان کے دفنانے کی اجازت کے متعلق یہ کاغذ ہے۔یہ بات سن کر مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا اور وصیت کے کاغذ پر جو در حقیقت ایک قسم کی سند معلوم ہوتی ہے جیسے حکومت کی طرف سے انعام کے طور پر سند ملا کرتی ہے ) جو عبارتیں لکھی ہوئی ہیں میں ان کے پڑھنے کے قابل نہ رہا۔اس وقت یک دم مولوی سرور شاہ صاحب غائب ہو گئے اور میری لڑکی امتہ القیوم مجھے معلوم ہوا جیسا کہ میرے پہلو میں کھڑی ہے میں نے اسے کہا کہ مجھے تو لفظ نظر نہیں آتے تم مجھے بتاتی جاؤ جہاں دستخط کرنے ہیں میں دستخط کرتا بقیہ حاشیہ: - (۵) خاکسار مؤلف نے ۱۹۴۷ء میں الفضل کی اشاعتوں میں آپکے سوانح کا اختصار شائع کیا تھا۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے ۳۰ را کتوبر ۱۹۵۰ء کے اپنے مکتوب میں خاکسار کو رقم فرمایا: - ” اخبار الفضل کے پرچے میں آپ کا اعلان پڑھا۔جس سے معلوم ہوا کہ ( آپ ) صحابیوں کے سوانح حیات لکھنے والے ہیں اور میں آپ کو واضح کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کے ) جو سوانح حیات لکھی ہے اس میں ان کی عمر ۹۲ سال لکھی ہے۔حالانکہ ان کی عمر ۸۰ سال سے کم تھی۔یعنی جب میری شادی ہوئی ہے اس وقت حضرت مولانا صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ اس وقت میری عمر ۳۲ سال ہے۔۔۔اور میری شادی ان کے ساتھ ۱۹۰۳ء کے ابتداء میں ہوئی تھی۔۔۔حضرت مولانا کی بوجہ کمزوری کے بات یاد نہ رہتی تھی۔اس لئے ۹۲ سال غلط ہے۔۔۔۔۔حضرت مولانا صاحب ایک بڑے بھائی اخویم سید محمد صادق شاہ صاحب۔۔۔۔۔حضرت مولانا سے ۳ سال عمر میں بڑے تھے۔حضرت مولانا صاحب سے ۳ سال پہلے اسی سال کی عمر پا کر فوت ہوئے۔۔۔حضرت مولانا کی عمرا ناسی سال تھی جب کہ اپنے حقیقی مولا سے جاملے۔“ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے۔سید محمد صادق شاہ صاحب کی وفت ۱۹۴۴ء میں آپ کی وفات ستر سال کی عمر میں ہوئی ( گو ہجرت کا سن ۱۹۰۱ ء ثابت ہوتا ہے تاہم یہ معلوم ہو گیا کہ ۹۳ سال عمر نہ تھی ) (۷) اس حصہ مسودہ کی ترسیل سے قبل بحمد اللہ آپ کی ریٹائرمنٹ کے متعلق فیصلہ انجمن ( نمبر 91 معمولی مورخہ ۲۲-۳-۳۹ ) میں آپ کی ولادت ۱۰ ستمبر ۱۸۷۳ء مرقوم مل گئی گویا بوقت وفات آپ کی عمر قریباً پونے چوہتر سال بنتی ہے اس سے ساری بحث ختم ہو گئی۔یہ امر بھی معلوم ہو گیا کہ خاکسار کے نتائج بھی قریب قریب صحیح تھے۔فالحمد اللہ علی ذلک۔