اصحاب احمد (جلد 5) — Page 8
گھنڈی ضلع مظفر آباد کشمیر میں پیدا ہوئے۔* قریباً ساڑھے چار سال کی عمر میں آپ کو پڑھنے کے لئے بٹھایا گیا۔بغدادی قاعدہ کے بعد دس ماہ میں آپ نے قرآن مجید ناظرہ ختم کرلیا۔حالانکہ یہ استاد عام طور پر دو تین سال میں بچوں کو صرف بغدادی قاعدہ ختم کراتے تھے۔یہ استاد مختار الدولہ وزیر کابل کے پوتے عبداللہ خان نام تھے۔حضرت مولوی صاحب کے والد بزرگوار نے ان کی یتیمی کی حالت میں پرورش کی تھی اور خود ہی تعلیم دی تھی۔والد صاحب نے عبد اللہ خان صاحب کو یہ نصیحت کی تھی کہ میرے اس بچہ کو بالکل نہ ماریں۔میرے دوسرے بچوں کو آپ مارتے بھی ہیں پھر بھی وہ پڑھتے ہیں لیکن یہ نہیں پڑھے گا۔کچھ دن تو انہوں نے اپنے تئیں ضبط کیا لیکن پھر مارنے کی عادت غالب آ گئی اور ایک دن انہوں نے غصہ میں آپ کی پیٹھ پر تسبیح ماری۔اس کا یہ اثر ہوا کہ یہ تھا بچہ بالکل خاموش ہی ہو گیا۔تین دن یہی حالت رہی۔بالآ خر مجبور ہو کر استاد آپ کو والد صاحب کے پاس لے گئے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے ضرور بچہ کو مارا ہوگا۔استاد نے واقعہ سنایا کہ مارا تو نہیں صرف تنبیہ کے لئے ایک تسبیح ماری تھی۔والد صاحب نے کہا کہ میں نے تو پہلے ہی منع کیا تھا۔آئیندہ کے لئے آپ یہ طے کر لیں کہ جب یہ سبق یاد کر لے چھٹی دے دیا کریں۔خواہ چھٹی کا وقت ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو۔تعلیم چھڑا دینا والد صاحب نے خیال کیا کہ دو بڑے بیٹے پڑھتے ہیں۔اگر چھوٹے بچہ کو بھی تعلیم دلائی تو زمینداری کا کام کون سنبھالے گا۔اس لئے انہوں نے آپ کو زمینداری کے کام کی خاطر پڑھائی سے ہٹا لیا اور غالبا یہ فیصلہ اس لئے بھی کیا کہ مولوی صاحب کی زبان میں اس وقت لکنت تھی۔باوجود اس کے آپ اپنے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر سبق سن لیتے تھے۔وجہ یہ ہوئی کہ آپ کے بڑے بھائی کچھ گند ذہن تھے۔انہیں جب تک تین چار بار سبق نہ کہلایا جاتا ، یاد نہ ہوتا اور والد صاحب اور استاد صرف ایک بار سبق کہلاتے۔اس وجہ سے انہیں یاد نہ ہونے کی وجہ سے مار پڑتی لیکن مولوی صاحب کو ایک دفعہ کہلانے سے ہی سبق یاد ہو جاتا۔بعض اوقات آپ کا بھائی کوئی چیز دے کر آپ کو پاس بیٹھنے پر آمادہ کرتا اور بعد میں آپ سے سبق دو ہرا لیتا۔انہی ایام میں آپ کے والد ایک دفعہ ہزارہ گئے۔ان کی غیر حاضری میں ایک ایسا واقعہ ہوا کہ مولوی عمر کے متعلق تحقیق انشاء اللہ تعالیٰ اس کتاب کے آخر میں دی جائیگی۔مؤلف