اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 283 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 283

۲۸۷ حضرت ممدوح نے اہل علم و رائے احباب سے تحریری جواب مانگا اور فیصلہ کے لئے ایک تاریخ مقرر کی۔لاہور سے جو افراد مدعو تھے وہ ایک کثیر مجمع لے کر بہت جوش و خروش کے ساتھ قادیان آئے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب شعر فانی کے مکان پر منعقدہ ایک جلسہ کا حال آپ ( یعنی مولوی محمد علی صاحب ) کے کمرہ میں مجتمع احباب کو بتایا گیا جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ حضرت خلیفتہ مسیح جو فیصلہ فرما ئیں گے ہمیں منظور ہوگا۔اس پر شیخ رحمت اللہ صاحب ڈاکٹر محمد حسین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے کہا کہ ہمیں بھی اس سے اتفاق ہے کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جمہوریت پسند خلیفہ دیا ہے اور وہ کبھی فیصلہ نہیں کرے گا کہ خلیفہ حاکم اور انجمن اس کے ماتحت ہے۔اس پر خواجہ صاحب نے کہا کہ اچھا پھر ایک بندہ ہی باقی رہ گیا اور استفسار پر کہا کہ میں اکیلا یہ کہتا ہوں کہ حضرت مولوی صاحب نے اگر یہ فیصلہ دیا کہ خلیفہ حاکم اور انجمن تابع ہے تو میں ہر گز نہیں مانوں گا کیونکہ الوصیۃ میں ہمیں وصی مقرر کیا گیا ہے اور ہم نے اس وقت اسے قبول کر کے گویا حضرت مسیح موعود کے ساتھ ایک معاہدہ یا اور قانون معاہدات کی رو سے بعد کا کوئی معاہدہ جو پہلے کے خلاف ہو لا زم الایفاء نہیں ہوتا۔اگر یہ کہو کہ پھر چندہ کوئی نہیں دے گا یہ غلط ہے ہم خدا کے فضل سے ان کاموں کو خود چلا سکتے ہیں۔گویا خواجہ صاحب اس بارہ میں ایسا عزم رکھتے تھے۔اس دن جو بھی اس کے خلاف خیال رکھنے والا ملا گالیوں سے ان کی خوب خبر لی گئی حتی کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب کو خوب گندی گالیاں دی گئیں اور اگر وہ بھاگ کر دار مسیح میں نہ جا گھستے تو شاید زدوکوب تک نوبت جا پہنچتی۔پھر خواجہ صاحب کے عزم کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس موقع پر صبح کی نماز میں بطور القاء ربانی حضرت خلیفہ اول نے سورۃ البروج تلاوت کی اور حضور تمام مقتدیوں سمیت زار زار رور ہے تھے اور مسجد رونے سے گونج رہی تھی اور جب حضور نے یہ آیت تلاوت کی کہ انَّ الَّذين فتنوا المؤمنين و المؤمنات ثمّ لم يتوبوا فلهم عذاب جهنم و لهم عذاب الحريق - تو دل موم کی طرح پکھل گیا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ اب کسی دل میں خلافت کے خلاف کوئی منصو بہ باقی نہیں رہ سکتا لیکن حضور کے گھر جاتے ہی خواجہ صاحب نے تقریر کی اور اس میں کہا کہ اب حضرت خلیفہ اول کوئی اور تقریر نہیں فرمائیں گے۔موجودہ تقریر کے قائم مقام یہی آیات ہیں جو حضور نے نماز میں تلاوت کی ہیں۔حضور نے گویا یہ وعظ فرمایا ہے کہ دیکھو مومنوں کا ایک امر پر اتفاق تھا اور وہ یہ ہے کہ انجمن حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے اور سب جماعت اور خلیفہ پر حاکم ہے اور خلیفہ اس کا مقرر کردہ اور اس کے ماتحت ہے مگر بعض شریروں نے اس کے خلاف بات چھیڑ کر مومنوں میں تفرقہ اور فتنہ ڈال دیا۔تو اللہ تعالیٰ ان شریروں کی نسبت فرماتا ہے کہ ان کے لئے عذاب جہنم ہے۔سو آپ لوگ اسی بات پر جم جائیں اور کسی شریر کے کہنے پر نہ جائیں۔پھر خواجہ صاحب کے عزم کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب