اصحاب احمد (جلد 5) — Page 7
ملا ہوا تھا والد صاحب کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے۔تیسرے روز ظہر کے وقت مولوی صاحب مدرسہ احمدیہ کے دفتر میں جو اس کے مغربی گیٹ سے ملحق جانب شمال ہے بیٹھے تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے دُور سے ہی آواز دی اور کہا مبارک ہو۔میر صاحب بیعت پر آمادہ ہو گئے ہیں میں کھانا کھانے جاتا ہوں۔آپ انہیں مسجد میں لے آئیں۔چنانچہ والد صاحب کو کھانا کھلا کر مولوی صاحب مسجد مبارک میں لے گئے۔نماز کے بعد حضرت مولوی صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مولوی سرور شاہ صاحب کے والد بیعت کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ بیعت ہوئی ایک روز مزید ٹھہر کر والد صاحب لاہور چلے گئے۔اس کے اگلے روز حضور علیہ السلام لاہور آخری سفر پر تشریف لے گئے۔وہاں والد صاحب حضور کے پاس ایک دن ٹھہر کر وطن چلے گئے۔اور چند روز بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہو گیا۔والد صاحب پھر قادیان نہیں آئے اور ۱۹۱۰ء میں اپنے گاؤں گھنڈی میں فوت ہوئے۔وہاں ان کی قبر معروف ہے۔آپ کا خلیہ ☆ نهایت با وقار خوبصورت سفید چہرہ۔اس پر مشترع خضاب لگی داڑھی۔قد گو قدرے چھوٹا تھا لیکن آپ کی سنجیدگی اور وقار اور ساتھ ہی انکسار اور حلیمی چال اور قال اور حال میں ہر طرح سے ظاہر تھی۔جسم گٹھا ہوا مضبوط تھا۔آخری چند سالوں میں زیادہ بڑھاپے کے باعث خضاب لگا نا ترک کر دیا تھا۔قاعدہ شروع کرنا آپ کی پیدائش اور تعلیم حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا بیان ہے کہ آپ ۱۹۴۷ء سے اندا ز آبا نوے سال قبل موضع ۵-۳-۴۷ کو خاکسار کے دریافت کرنے پر مکرم شیخ محمد نصیب صاحب نے بتایا کہ مجھے مولوی صاحب کے والد صاحب کا قادیان آنا یاد ہے لیکن بیعت کے متعلق یاد نہیں۔اس کے بعد حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سے دریافت کیا آپ نے بتایا کہ ان کا قادیان آنا اور بیعت کرنا مجھے یاد ہے اور ۴۷-۳-۶ کو حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پوچھنے پر بیان کیا کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے مولوی صاحب کے والد صاحب کا تعارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مسجد مبارک میں کرایا تھا۔بیعت کے متعلق یاد نہیں۔مؤلف