اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 6 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 6

۶ حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے طب پڑھتے رہے۔ان کی اولا د صرف ایک لڑکا سید عبد العزیز اور ایک لڑکی تھی۔چار سال قبل (۱۹۴۳ء کے قریب ) موضع گھنڈی میں فوت ہوئے۔افسوس ہے کہ غیر مبائع ہو گئے تھے۔والدصاحب کا قادیان آنا اور بیعت کرنا آپ کے وطن میں ایک امیر شخص خواجہ محمد جو تھا۔وہ بیمار ہوا۔والد صاحب نے علاج کیا اور بعض پر ہیز کی باتیں بتا ئیں اور کہا کہ اگر پر ہیز توڑنے سے بیمار ہوئے تو پھر میں علاج نہیں کر سکونگا۔بلکہ صرف حضرت مولوی نور الدین صاحب علاج کر سکیں گے۔والد صاحب چونکہ احمدیت کے مخالف رہے تھے۔ادھر حضرت مولوی نور الدین صاحب سے حد درجہ کی محبت رکھتے تھے۔اس لئے اس بہانہ سے ملاقات کے خواہاں تھے۔صحت ہونے پر اس شخص نے بد پرہیزی کی اور پھر بیمار ہو گیا اور والد صاحب کو بتائے بغیر علاقہ کے سلطان رحمت اللہ خاں صاحب اور مولوی صاحب کے ماموں زاد بھائی محمد اکرم کو لے کر پہلے کسی بہانہ سے پشاور گیا۔پھر کہا چلو راولپنڈی ہو آتے ہیں۔پھر کہا کہ امرتسر تجارت کا مرکز ہے وہاں چلتے ہیں اور امرتسر آئے۔وہاں سے قادیان آنے کا ارادہ کیا۔سلطان صاحب تو واپس چلے گئے باقی دونوں قادیان آئے اور حضرت مولوی سرور شاہ صاحب انہیں حضرت مولوی صاحب کے ہاں ہی لے گئے۔حضرت مولوی صاحب نے سلطان صاحب کے امرتسر سے واپس چلے جانے کو نا پسند کیا (سلطان صاحب احمدی ہیں اور زندہ ہیں۔راجہ عطا محمد صاحب یاری پورہ کے داماد ہیں راجہ صاحب انہیں رشتہ نہیں دیتے تھے۔والد صاحب وہاں گئے اور راجہ صاحب نے ان کی بات مان لی اور رشتہ ہو گیا ) محمد اکرم سخت متعصب تھا۔مولوی سرور شاہ صاحب نے اسے مسجد مبارک دکھائی لیکن حضور کو اس نے نہ دیکھا۔نہ نماز میں شامل ہوا۔خواجہ محمد جو اور محمد اکرم واپس وطن پہنچے اور والد صاحب سے قادیان ہو آنے کا ذکر کیا۔تو انہوں نے بہت بُرا منایا اور کہا کہ مجھے کیوں ساتھ نہ لیا ؟ کیا تم خیال کرتے تھے کہ میں تمہارے کرایہ پر جاؤ نگا ؟ میں نے اپنے کرایہ پر جانا تھا اور بجائے موضع گھوڑی سے گھر جانے کے سیدھے دانہ گئے اور اپنے بھانجے سید سرور شاہ کو لے کر قادیان پہنچے ان دنوں بارشیں ہو رہی تھیں۔مولوی سرور شاہ صاحب کے گھر سے قادیان میں نہیں تھے۔آپ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو والد صاحب کے آنے کی اطلاع دی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کا معمول تھا کہ درس قرآن مجید میں کبھی ناغہ نہیں کرتے تھے لیکن برابر تین دن نہ آپ نے مطب کیا اور نه درس دیا اور سارا دن مولوی سرورشاہ صاحب کے کوارٹر میں جو آپ کو بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے شمالی حصہ میں