اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 4 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 4

۴ نہ کچھ استاد سے پڑھتا رہتا تھا۔اس نے یہ طریق اختیار کیا کہ جہاں بھی والد صاحب سے ملتے تو برسر مجلس کوئی مسئلہ پوچھتے۔وہ جانتے تھے کہ آپ کو علم نہیں۔جب آپ جواب سے عاجز رہتے اور شرمندہ ہوتے تو اور شرمندہ کرنے کے لئے کہتا کہ دیکھو جی۔یہ ہمارے آلِ رسول ہیں جن کے گھر سے علم نکلا ہے۔ہم اُمتی ہو کر اس علم کی قدر کرتے ہیں کہ اس بڑھاپے میں بھی پڑھتے ہیں اور یہ آلِ رسول ہو کر اور جوان ہو کر علم کی قدر نہیں کرتے۔اس غیرت دلانے نے والد صاحب کو تحصیل علم پر آمادہ کیا۔اس وقت دادا صاحب فوت ہو چکے تھے۔کاروبار کا بوجھ آپ کے سر پر تھا۔بایں ہمہ آپ ایک ایسے عالم کے پاس چند ماہ رہ کر پڑھتے رہے جو علاوہ کتابیں پڑھ لینے کے سات سال صرف فقہ اور اصول فقہ کے متن یا دکرنے کے واسطے اسی فن کے ماہر کے پاس رہے تھے اور پھر کچھ مہینے گھر پر کاروبار کے لئے گزارے۔آخر استاد نے کہا کہ اب میں آپ کو نہیں پڑھا سکتا اور نہ اس ملک میں کوئی ایسا عالم ہے جو آپ کو پڑھا سکے مگر آپ کے شوق کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خود کوئی استاد دے دے گا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی شاگردی چنانچہ آپ نے بہت تلاش کی کوئی عالم نہ ملا۔آخر ایک دفعہ آپ جموں گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری موجودگی میں حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میری طرف اشارہ کر کے سنایا کہ ان کے والد صاحب جیسا بے نفس عالم میں نے عمر بھر نہیں دیکھا اور یہ واقعہ بیان کیا کہ اس علاقہ کے سلطان جو حنفی تھے آئے ہوئے تھے اور میر صاحب (مولوی صاحب کے والد صاحب) بھی ساتھ تھے۔میں اہل حدیث مشہور تھا۔سلطان نے میرے ساتھ فاتحہ خلف الامام کے متعلق بحث کرنا چاہی۔میر صاحب نے اس کی طرف سے بطور مناظر بات چیت شروع کی۔ابھی کوئی ایسی بات نہیں ہوئی تھی جس سے میں یہ محسوس کرتا کہ ان کا پہلو کمزور ہو گیا ہے کہ اسی اثنا میں میر صاحب نے کہا کہ آپ کے پاس بلوغ المرام ہے۔میں نے سمجھا کہ کسی حدیث سے استدلال کرنے کے لئے کتاب درکار ہے اور کتاب منگوا دی۔میر صاحب نے چادر کندھے سے اتار کر آگے رکھی اور اوپر کتاب کھول کر رکھ دی اور کہا کہ مولوی صاحب مجھے سبق پڑھائیے۔میں نے سمجھا کہ تمسخر کرتے ہیں۔مجھے غصہ میں دیکھ کر سمجھے کہ میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا اور کہا کہ مولوی صاحب میں سچ سچ پڑھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا۔آپ تو بحث کر رہے تھے۔کہنے لگے کہ بحث کرنے والے کرتے رہیں گے۔مجھے تو استاد مل گیا ہے۔میں اپنا کام کرونگا۔چنانچہ آپ نے مجھ سے بلوغ المرام اور بخاری شریف پڑھی۔