اصحاب احمد (جلد 5) — Page 228
۲۳۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں مسجد مبارک میں آپ کو خطبات جمعہ پڑھنے کا بار ہا شرف بقیہ حاشیہ کے افسر شریک ہوتے ہیں۔آپ کے کئی عہدے تھے۔اس لئے مختلف عہدوں کے ساتھ آپ کا نام مرقوم ہوتا رہا۔اس دوران میں جن سالوں میں آپ کسی سب کمیٹی کے رکن مقرر ہوئے سالہائے متعلقہ کی رپورٹوں کے صفحات کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:۔(1) ۱۹۲۳ء سب کمیٹی اشاعت اسلام (ص ۶۸،۶۷) اس وقت آپ صدرانجمن کے سیکرٹری بھی تھے (ص۳۰) (۲) ۱۹۳۴ء سب کمیٹی نظام سلسله (ص ۲۷، ۲۸) (۳) ۱۹۲۵ء سب کمیٹی تعلیم وتربیت (ص۵۹) (۴) ۱۹۲۶ ء ایک سب کمیٹی کے رکن ( احمد یہ گزٹ ۲۷-۳-۱۱ ص۳۳) (۵) ۱۹۳۱ء سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کے آپ سیکرٹری مقرر ہوئے۔صدر چوہدری نعمت اللہ خان صاحب ڈسٹرکٹ و سیشن جج دہلی تھے۔یہ امر زیر غور تھا کہ جو موصی حصہ جائیداد ادا کئے بغیر فوت ہو جائے اس کے حصہ کی وصولی کے لئے وقت پیش آتی ہے۔(ص ۲۸) (1) ۱۹۳۲ء آپ نے رپورٹ پیش کی کہ وصیت کی رو سے جائیداد کا مفہوم کیا ہے۔(ص۲۲) (۷) ۱۹۳۴ء سب کمیٹی تعلیم و تربیت کے رکن مقرر ہوئے۔لڑکیوں کے نصاب کے متعلق چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی زیر صدارت سب کمیٹی نے رپورٹ تیار کی تھی جو پیش ہوئی۔حضور نے فرمایا کہ حضور کے ساتھ مل کر سب کمیٹی نصاب کے متعلق غور کرے۱۳ جنوری ۱۹۳۵ء کو حضور نے اس بارہ میں فیصلہ جات فرمائے۔(ص۱۲۶،۱۰۲) (۸) ۱۹۳۵ء وصیت کے متعلق اہم تجاویز پیش تھیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکیس ارکان پر مشتمل ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی جس میں مولوی صاحب صیغہ کے نمائندہ کے طور پر شامل کئے گئے۔( ص ۱۲، ۲۰،۱۹) امور زیر غور یہ تھی کہ وصیت صرف مترو کہ جائیداد کی کافی نہیں بلکہ اس آمد کی بھی ہونی چاہئے جس پر موصی کا گزارہ ہے۔دوسرے بعد وصیت اگر موصی کوئی جائیداد پیدا کرے یا جس جائیداد کی وصیت کی تھی ہر دو صورتوں میں بہہ بغیر ادا ئیگی وصیت کرنا چاہے تو صدر انجمن سے اس کی اجازت حاصل کرے۔(ص۱۲، الف ) (۹) اکتوبر ۱۹۳۶ء یہ اجلاس ثانی خاص مالی امور کے لئے طلب کیا گیا تھا دوسب کمیٹیوں کا تقرر کیا گیا کہ آخر پر دونوں یکجائی مشورہ بھی کریں۔آپ بھی ایک سب کمیٹی کے رکن مقرر ہوئے تھے۔(ص۱۵)