اصحاب احمد (جلد 5) — Page 194
۱۹۸ اس سے سبکدوش ہونے پر تا وفات واقفین تحریک جدید کے جامعہ کے پرنسپل مقرر رہے۔گویا مدرسہ احمدیہ کے قیام سے اپریل ۱۹۳۹ء تک مدرسہ احمد یہ اور جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء مبلغین اور اس کے بعد تقسیم ملک تک کے واقفین آپ سے بھی فیضیاب ہونے والوں میں سے تھے۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی آپ کے تلامذہ میں سے ہیں کی حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب بھیروی نے الحکم میں ایک مبسوط مضمون کے ذریعہ جماعت پر واضح کیا کہ سلسلہ کی اغراض کے لئے علماء کے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے ایک مدرسہ دینیہ کا اجراءضروری ہے۔صرف انگریزی مدرسہ ان اغراض کی تکمیل کے لئے کافی نہیں اور تحریک کی کہ اس بارہ میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں احباب تفصیلاً اپنی آراء ارسال کریں اور ایسی تعلیم کے لئے طلباء مہیا کئے جائیں اور ان کے اخراجات کو فراہم کیا جائے اشاعت سے قبل چودہ بزرگان کو یہ مضمون دکھا کر ان کی آراء بھی ساتھ ہی شائع کی گئیں۔چنانچہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مدرس اول تعلیم الاسلام، رقم فرماتے ہیں :- ”جہانتک میرا خیال ہے حضرت اقدس علیہ السلام کے منشاء کے مطابق طریقہ تعلیم کا ہونا از بس ضروری ہے اور میں نہیں خیال کرتا کہ اس کی ضرورت سے کسی احمدی کو انکار ہوسکتا ہے۔پر اس کی تکمیل حضرت اما منا خلیفہ المسیح علیہ السلام اور قوم کی توجہ کی محتاج ہے۔محمد سرور ۱۳۷ مدرسہ احمدیہ ( جس کا یہ نام مجوزہ حضرت مولوی شیر علی صاحب منظور کیا گیا) کی سکیم مطابق فیصلہ مجلس معتمدین (نمبر ۵، ۷ مورخه ۰۹-۱-۳۱) ایک کمیٹی نے تیار کی جو مولوی شیر علی صاحب ، مولوی سرور شاہ صاحب، قاضی امیرحسین صاحب، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) اور حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) سیکرٹری پر مشتمل تھی۔ہفت سالہ نصاب تجویز کیا گیا اور حضرت خلیفہ اول کے منشاء کے مطابق ترمیم کے ساتھ اس سکیم کو منظور کر لیا گیا۔۱۳۸ مدرسہ احمدیہ قادیان کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالی ) کے سپرد ہو چکا تھا۔آپ کا خیال تھا کہ اس کا معیار مدارس عربیہ والہیات کے مماثل ہو اور آپ بعض علماء سمیت آپ سے پہلے مدرسہ احمدیہ کا انتظام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفة المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ ) اور آپ کے برادرانِ ذی شان کے سپر دہوتا رہا ہے۔۱۳۹