اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 174 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 174

KA وو مولوی سید سرور شاہ صاحب علماء جماعت احمدیہ میں سے بڑے عالم ہیں اور میں سمجھتا ہوں بہت مخلص آدمی ہیں۔میں امید رکھتا ہوں ان کے وجود سے بھی فائدہ پہنچے گا۔مشاورت ۱۹۲۶ء میں یہ سوال کیا گیا کہ مرکز میں علماء مخالفین کی کتب کے جواب کیوں تالیف نہیں کرتے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا کہ: - جس طرح اور ملازم ۶،۵ گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی پڑھاتے ہیں۔اگر ان سے یہ سوال کرنے کا حق ہے تو یہ بھی حق ہونا چاہیئے کہ ہم سوال کرنے والے سے ) پوچھیں کہ انہوں نے کتنی کتابیں تصنیف کی ہیں۔۔۔سلسلہ کا کام کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام کرنے والے کا دماغ ہر وقت تازہ اور کام کے قابل رہتا ہے اور انہیں آرام کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔وہ لوگ جو ایک مستقل کام پر مقرر ہیں وہ کوئی دوسرا مستقل کام نہیں کر سکتے اور جو کچھ ان کو ملتا ہے اس کے معاوضہ میں وہ ایسا ہی کام کرتے ہیں۔جیسا آپ لوگ کرتے ہیں اس کے بعد کوئی حق نہیں رہتا کہ انہیں کہا جائے کہ اور وقت دو۔۔۔مگر یہ علاوہ اس کے بھی کام کرتے ہیں۔۔۔'' ( مثلا۔۔۔۔مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں جو مدرسہ میں کارکن ہیں۔وہ صیغہ وصایا کے انچارج بھی ہیں۔افتاء کا کام بھی کرتے ہیں۔اگر وہ مدرسہ میں پڑھانے کے بعد کہتے کہ میرا دماغ تھک گیا ہے جس طرح باہر کے لوگ کہتے ہیں مگر وہ وصایا کا کام بھی کرتے ہیں جس سے چندہ میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ آنریری کام کرتے ہیں۔☆۔۔احمد یہ گزٹ ۲۷-۲-۲۶ (ص ۱۵ ۱۶) صد را منجمن نے فیصلہ کیا: ”مولوی صاحب کی تحریر سن کر فیصلہ کیا گیا کہ مجلس شوری حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ کے ایثار کو عزت اور قدر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ناظر صاحب تالیف و اشاعت۔۔۔۔حضرت مولوی صاحب کو ذاتی حیثیت سے کام کرنے کے لئے تحریک فرما ئیں جس کو وہ بلا معاوضہ منظور فرماتے ہیں اور نصاب تعلیم کو پورا کرنے کا ذمہ لیا ہے۔۸۸