اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 150 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 150

۱۵۴ اس موقع پر اس واقع کے دُہرانے کی اس لئے ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عزیزم عبدالحئی اب چودہ سال کے ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ موقع دیا ہے کہ آج بتاریخ ۲۱ / جون ان کی شادی جناب مولوی سید سرور شاہ صاحب کی لڑکی فاطمہ سے بخیر وخوبی انجام پائی ہے خطبہ خود حضرت خلیفہ اسیح نے پڑھا۔مہر دو ہزار روپیہ مقرر ہوا۔یہ شادی بھی اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عزیزم عبدالی کو بلوغ کی عمر تک پہنچایا۔خدا کرے یہ شادی بڑی بڑی برکتوں کا موجب ہو اور اس تعلق کا نتیجہ حضرت خلیفہ اسیح۔خود میاں بیوی اور ساری قوم کے لئے مفید ہو۔میں اس موقع پر تمام ناظرین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خلوص دل سے اس شادی کے مبارک ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کریں۔والاجر من الله۔محمود احمد (ص۱۶) نیز تحریر فرماتے ہیں:۔سورہ نور کے بہت سے احکام کا عملدرآمد مسلمانوں سے چھوٹ گیا ہے ازاں جملہ ایک یہ بھی ہے کہ گھر علیحدہ علیحدہ ہوں۔اگر مسلمان اس پر عمل کرتے تو ان کے گھر بہشت کا نمونہ ہوتے۔حضور نے عزیز عبدالحی کے نکاح کے بعد اس کا مکان بنوانا شروع کیا ہے۔‘۱۲ عزیز عبدالحی کا پختہ مکان بہت خوشنما تیار ہو جانے پر بنت مولوی محمد سرور شاہ صاحب کا ۲ /اگست کو رخصتا نہ ہو گیا۔یہ لڑ کی مولوی صاحب کی اگلی مرحومہ بیوی سے ہے۔مگر اہلیہ مولوی صاحب نے جس محبت و فراخدلی سے اس کا جہیز تیار کیا ہے وہ ایسی ماؤں کے لئے قابل تقلید اسوہ ہے۔جزاها الله احسن الجزاء مولانا خلیفہ اسیح نے فرمایا۔ہم نے تو اپنی بہو اور بیٹے کو دو قرآن مجید ، دو صحیح بخاری اور ان کے لئے رحل اور حزب المقبول، فتوح الغیب اور براہین احمدیہ اور الماری اور تہجد کے لئے لالٹین اور لوٹادیئے ہیں اور بس۔“ یہ پاک جذبات فانی فی اللہ اور باقی باللہ لوگوں ہی میں ہو سکتے ہیں۔۱۳ افسوس کہ زندگی نے وفا نہ کی اور صاحبزادہ عبدالحئی صاحب میں روز کی علالت کے بعد ارنومبر ۱۹۱۵ء کو اس عالم فانی سے عالم جاودانی کو سدھارے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔مؤقر الفضل تعزیت کرتے ہوئے راقم ہے کہ : - ہمیں اس صدمہ میں مولانا محمد سرور شاہ صاحب سے بھی ہمدردی ہے جن کو