اصحاب احمد (جلد 5) — Page 136
۱۴۰ ہو گئے اور یہ برات باباجی کے ہاں پہنچی۔بابا جی پشمینہ بانی کا کام کرتے تھے مولوی صاحب سے ان کی سابقہ معرفت نہ تھی۔یہ حضور علیہ السلام کا اثر ، برکت اور تاثیر فیض تھی کہ جس کی وجہ سے آپ نے سابقہ خاندانی روایات کے خلاف اس انکشاف کو صبر سے برداشت کیا ورنہ عام حالات میں ممکن تھا کہ سسرال سے واپس اُٹھ آتے۔بیچ ہے۔انبیاء کے ذریعہ ایک انقلاب برپا ہوتا ہے جو روایات اور رواج ورسوم کی خس و خاشاک کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔آپ کی بعد کی ازدواجی زندگی میں اپنے اہلِ بیت سے حسن معاشرت اس امر پر دال ہے* آپ کا بیان ہے کہ ۲۸ / مارچ ۱۹۰۳ء کو شالا مار باغ والے چراغوں کے میلہ کے روز نکاح کے دس پندرہ دن بعد رخصتا نہ عمل میں آیا۔میری عمر اس وقت ہیں سال تھی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کے رشتہ معین کرنے پر رشتہ کرنے میں تا خیر اس لئے واقع ہوتی کہ تمام اقارب مخالف تھے چنانچہ ان میں سے فرد واحد نے بھی شادی کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔مولوی صاحب رخصتانہ کے لئے امرت سر آئے۔تو ایک لمبے کرتے، لمبے چوغہ اور پگڑی غرضیکہ بہت سادہ لباس میں ملبوس تھے۔رہائش کے لئے آپ نے سکھوں کی گلی میں مرزا مہتاب بیگ صاحب مرحوم کے شہر والے مکان کے قریب ایک مکان چھ آنے کرایہ پر لے لیا تھا۔جس کی مکانیت دو کمرے اور کنال بھر صحن تھا۔کچھ عرصہ بعد آپ بوجہ سپرنٹنڈنٹ ہونے کے مدرسہ احمدیہ والے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔آپ کی تنخواہ اس وقت پندرہ روپے تھی اس سے پہلے بارہ روپے تھی۔باوجود یکہ آپ دوصد روپیہ ماہوار آمد ترک کر کے آئے تھے آپ اپنے اخلاص کی وجہ سے کبھی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔پھل آتا تو حضور ہمارے بابا جی بہت مخلص ، سادگی پسند، بے کار نہ رہنے والے، تبلیغ پیشہ کفایت شعارا اور تقویٰ شعار تھے۔باوجود غریب ہونے کے اہل محلہ میں ان کی نیکی کی وجہ سے بہت اثر تھا۔خاکسار مؤلف اپنے طالب علمی کے زمانہ میں اپنی ممانی صاحبہ کے ہاں کو چہ کلکتیاں میں جایا کرتا تھا اور بابا جی سے ملاقات کرتا۔آپ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔* کتاب ہذا صفحہ ۶۰،۵۹۔** مرزا مہتاب بیگ صاحب سیالکوٹی ( مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ ) صحابی تھے خلافت ثانیہ میں ہجرت کی۔ان کی رہائش قصر خلافت کے شمال کی طرف کی گلی میں جو سکھوں والی گلی ہے اپنے مکان میں تھی۔اس حصہ کو گلی قصر خلافت کی طرف چوک سے آنے والی گلی سے پھوٹتی ہے۔بہت بعد اس حلقہ میں احمدیوں کے بہت سے مکانات ہو گئے تھے۔گویا حضرت مسیح موعود کے دار اور مسجد مبارک وغیرہ سے مولوی صاحب والا مکان قریب تھا۔