اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 134 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 134

۱۳۸ صاحب نے حضور سے استصواب کیا اور حضور نے اس رشتہ کی اجازت عنایت کی۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے حضور کی موجودگی میں نکاح پڑھا اور بغیر پوچھے کے دوصد روپیہ مہر مقرر کیا حضور بھی دعا میں شریک ہوئے۔بقیہ حاشیہ: - (ج) آپ کی محترمہ اہلیہ صاحبہ نے ۱۹۵۰ء میں مجھے تحریر کیا کہ شادی مارچ ۱۹۰۳ء سے سال پہلے ہجرت کرنے کا مولوی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا تھا۔گویا ۱۹۰۱ء میں ( گو یہ ساری بات لکھ کر محترمہ نے سہؤ ۱۹۰۰۱ء تحریر کر دیا ہے۔) (ط) مسودہ کے کتابت کے لئے سپر د کر دینے کے بعد یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں جو خاکسار کے اخذ کردہ نتیجہ کی توثیق کرتا ہے۔محترم مولوی محمد جی صاحب دا توی فاضل نے خاکسار کے عرض کرنے پر جو تاثرات ارسال کئے ہیں۔ان میں تحریر کرتے ہیں۔مولوی صاحب کشمیر میں راجہ عطا محمد خان صاحب کے ہاں پھوپھی زاد بھائی کا رشتہ طلب کرنے کے لئے گئے تھے۔واپس پر دانہ آئے تو یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ میں نے بیعت کر لی ہے اور فرمایا کہ آپ کا نام میں نے اخبار میں پڑھا تھا۔“ آپ کی بیعت الحکم مورخہ ۳۱ اکتو برا ۱۹۰ء میں اس طرح مرقوم موجود ہے:۔محمد جی صاحب۔دا یہ تحصیل مانسہرہ ضلع ہزارہ “۔( ص ۶اک ۳) گویا خاکسار نے جو نتیجہ نکالا تھا کہ حضرت مولوی صاحب ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔یہ اس بیان اور مطبوعہ ریکارڈ کے مجموعہ سے قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے اور اس سے آپ کی بیعت کی تاریخ اور قیام پشاور کے عرصہ کی تعیین کے متعلق استنباط کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔نیز دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ میں جو ریکارڈ ہے کہ مولوی محمد جی صاحب کی بیعت ۱۹۰۰ ء کی ہے اس کی تصیح بھی ہو جاتی ہے۔(۳) تاریخ تقرری بطور مدرس : - (الف) مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے انتظام کے تعلق میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو مالیر کوٹلہ سے ہجرت کر آنے سے پہلے بھی وسیع اختیارات تفویض ہو چکے تھے اور آپ ۱۴/ نومبر ۱۹۰۱ء کو ہجرت کر آئے تھے۔(برائے ہر دوا مور ملاحظہ کیجئے اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۵۳۲ - ۱۵۷) (ب) نواب صاحب کے سامنے مرزا خدا بخش صاحب نے مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کی اسامی پر