اصحاب احمد (جلد 5) — Page 97
۹۸ وو اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان نوازی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں۔جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو ( خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہویا نہ داخل ہو۔) ذراسی بھی تکلیف حضور کو بے چین کر دیتی ہے۔مخلصین احباب کے لئے تو اور بھی آپ کی رُوح میں جوش شفقت ہوتا ہے اس امر کے اظہار کے لئے ہم ذیل کا ایک واقعہ درج کر دیتے ہیں۔میاں ہدایت اللہ صاحب احمدی شاعر لا ہور ، پنجاب جو کہ حضرت اقدس کے ایک عاشق صادق ہیں اپنی اس پیرانہ سالی میں بھی چند دنوں سے گورداسپور آئے ہوئے تھے۔آج انہوں نے رخصت چاہی۔جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ جا کر کیا کریں گے۔یہاں ہی رہیئے۔اکٹھے چلیں گے۔آپ کا یہاں رہنا باعث برکت ہے۔اگر کوئی تکلیف ہو تو بتلا دو اس کا انتظام کر دیا جاوے۔پھر اس کے بعد آپ نے عام طور پر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ چونکہ آدمی بہت ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی کی ضرورت کا علم ( اہل عملہ کو ) نہ ہو اس لئے ہر ایک شخص کو چاہیئے کہ جس شے کی اسے ضرورت ہو وہ بلا تکلف کہہ دے۔اگر کوئی جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو وہ گنہگار ہے۔ہماری جماعت کا اصول ہی بے تکلفی ہے۔بعد ازیں حضرت اقدس نے میاں ہدایت اللہ صاحب کو خصوصیت سے سید سرور شاہ صاحب کے سپرد کیا کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو بہم پہنچا دیں۔۴۶ چنده حضرت اقدس کے زمانہ میں احباب جماعت حسب ضرورت سلسلہ وحسب توفیق اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنے اموال صرف کرتے تھے اور مرکز میں رقوم ارسال کرتے تھے جہاں تک مجھے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے تمام آمد کا اندراج اخبارات سلسلہ میں نہیں ہوتا تھا۔یہ ممکن بھی نہیں تھا۔حضرت مولوی صاحب کے متعلق مجھے ذیل کے دواند راجات مل سکے ہیں۔(الف) روز نامچه آمد مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان بابت جنوری ۱۹۰۱ء میں مولوی سرور شاہ صاحب ( یعنی پیشاور ) دوروپے ۴۷