اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 95 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 95

۱۷-۱۱-۱۹۰۲ صفحه ۷) ۹۵ ۱۹/ نومبر کو ” حضرت اقدس قریب ۸ بجے کے سیر کے لئے تشریف لائے۔کل احباب ہمراہ تھے۔اعجاز احمدی کے متعلق ذکر شروع رہا۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ ہماری طرف سے کوئی استدعا نہ تھی۔حضرت نے فرمایا کہ ”خود ان کا خط موجود ہے“۔سیر - اردسمبر ۱۹۰۲ء شحنہ ء ہند کی لاف زنی (صبح کی سیر میں ) اعجاز احمدی کی نسبت ایڈیٹر صاحب الحکم نے سُنایا کہ شحنہ ء ہند نے لکھا ہے کہ شروع سال میں اس کا جواب اعجازی طور پر شائع ہو گا اور اس نے ۳ ہزار روپیہ لوگوں سے طلب کیا ہے کہ اس روپئے سے وہ کتاب تصنیف کر کے شائع کرے اور دس ہزار انعام لے لیوے۔اس طرح سے ۱۳ ہزار روپیہ وہ لینا چاہتا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ کیمیا گر ، دھوکا باز اسی طرح نادانوں کو دھوکا دے کر لوٹا کرتے ہیں۔مخالفت پر فرمایا کہ اس سے تحریک ہو کر نشان ظاہر ہوتے ہیں اور مخالفوں کی تحریک ایسی ہے جیسے کل (مشین ) سے ایک کنواں نکالا جاوے ورنہ موافقین جو امنا کہہ کر چپ کر گئے ان سے کیا تحریک ہو سکتی ہے۔اعجاز احمدی سے خود لوگ اس نتیجہ پر پہنچ جاویں گے کہ قرآن دانی اور عربیت کی اصل جڑ انہیں لوگوں میں ہے ( یعنی احمد یہ مشن میں ) کیونکہ وہ نتیجہ نکال لیں گے۔جن کی عربی دانی یہ ہے کہ اس کی مثل لوگ نہیں لا سکتے تو ضرور ہے کہ قرآن دانی بھی انہیں میں ہو۔اعجاز احمدی میں بہت سی پیشگوئیاں بھی کی ہیں اور اِنْ كُنتُم فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَاتُوْابِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ۔اس میں مثلہ کے یہ معنے بھی اکثر مفسرین نے کئے ہیں کہ اگر مقابلہ میں کوئی لکھ کر لاویں تو اس میں پیشگوئیاں بھی اسی طرح ہوں۔جیسے قرآن شریف میں ہیں۔اے مخالفین کا بجز مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی ثناء اللہ، پیر مہرعلی گولڑوی ، مولوی اصغر علی روحی پر و فیسر عربی (اسلامیہ کالج لا ہور ) قاضی ظفر الدین پروفیسر اور کمینٹل کالج لاہور، مولوی علی حائری شیعہ مجتہد لا ہور کو حضرت اقدس علیہ السلام نے دعوت مقابلہ دی تھی۔مدت گزر گئی کسی کا جواب شائع نہ ہوا۔قاضی ظفر الدین نے (جو عربی رسالہ نسیم الصباء کے ایڈیٹر بھی تھے ) قصیدہ اعجاز احمدی کے جواب میں ابھی چند شعر ہی لکھے تھے کہ بیمار ہوکر اگلے جہان کو سدھارے۔اس طرح یہ پیشگوئی بڑی آب و تاب سے پوری ہوئی۔