اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 70 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 70

پر چے نقل کر لئے جاتے تھے۔وہ آپ نے حضور کی خدمت میں پیش کئے۔حضور نے جیسا کہ پیر گولڑوی صاحب کے متعلق جو آپ نے جواب لکھا تھا اس کے متعلق فرمایا تھا۔اسی طرح ان پر چوں کے متعلق فرمایا کہ میں دو پہر کو لیٹا، پڑھنے کے لئے اور کوئی چیز پاس نہ تھی۔میں نے اس مباحثہ کے پرچے دیکھے اور حضرت مولوی صاحب کی تعریف کی کہ خوب لکھا ہے۔یہ پرچے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے لے لئے تھے افسوس ہے کہ ان سے گم ہو گئے۔دیگر کوائف مذکورہ بالا کوائف حضرت مولوی صاحب کی زبانی رقم کئے گئے ہیں۔آئندہ صفحات میں اعجازی احمدی ، الحکم، البدر سے مزید کوائف درج کئے جاتے ہیں تا احباب پر مباحثہ مد کی اہمیت اور حضرت مولوی صاحب کی عظمت وعلو شان ظاہر ہو کہ جن کے مناظرہ کی کارروائی اعجاز احمدی جیسے عظیم الشان نشان کا موجب بن کر آپ کو زندہ جاوید بنا گئی۔علاوہ ازیں حضور علیہ السلام دس بارہ روز تک اپنی مجالس میں اس کا ذکر اور اس پر تبصرہ فرماتے رہے۔ان سے مباحثہ کی ساری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے۔یہاں مختصراً یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ چونکہ ایک چالاک مناظر تھا اس لئے اس نے یہ چالا کی کی کہ وقت مناظرہ ہیں ہیں منٹ قبول کرنے پر مجبور کیا۔یہ ظاہر ہے کہ جماعت کے افراد صرف چند ایک تھے۔اگر یہ شرط قبول نہ کی جاتی تو خیال آتا ہے کہ یہ سمجھا جاتا کہ فرار کی راہ اختیار کر لی ہے اور اکثریت پر مشتمل حاضرین مناظرہ کے موقع پر اس طرح فتح و شکست کا فیصلہ کرتے ہیں۔مولوی ثناء اللہ کو ایسا موقع دینے کی بجائے معلوم ہوتا ہے بامر مجبوری اتنا قلیل وقت حضرت مولوی صاحب نے قبول کر لیا۔دوسری چالا کی مولوی ثناء اللہ نے یہ کی کہ اصل مسائل زیر بحث سے گریز کر کے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر تمسخر کرنا شروع کیا اور گندہ پنی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔میاں محمد یوسف صاحب کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی سب کُتب مباحثہ مد کے سلسلہ میں اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔سے ذیل میں اعجاز احمدی کے پانصد تینتیس اشعار میں سے مباحثہ مد کے تعلق میں بہتر اشعار درج کئے جاتے ہیں۔