اصحاب احمد (جلد 5) — Page 46
۴۶ { بیعت کے متعلق حضور سے استصواب ایبٹ آباد میں ایک دوست با بو غلام محی الدین احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں وفات پاگئے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے ان سے بیعت پر آمادگی کا اظہار کیا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ سر دست آپ بیعت نہ کریں۔اس علاقہ کے لوگ ہنوز احمدیت سے بکلی نا آشنا ہیں اور آپ نے بیعت کر لی تو یہ لوگ آپ سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے بلکہ مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے لیکن اگر آپ اسی حالت میں رہ کر انہیں سمجھاتے رہیں گے تو جب آپ بیعت کریں گے تو سب نہیں تو اکثر آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔مگر مولوی صاحب کی طبیعت اسے پسند نہیں کرتی تھی اور تاخیر برداشت سے باہر تھی۔آخر آپ نے مناسب سمجھا کہ حضور سے مشورہ لے کر اس پر عمل کریں۔چنانچہ آپ نے لکھا کہ یہ امر یقینی ہے کہ میرے اعلانِ احمدیت پر یہ لوگ میرے مخالف ہو جائیں گے اور اس ملازمت سے برخواست کر دیں گے۔برخواستگی مجھے نا پسند ہے میں چاہتا ہوں کہ پہلے استعفا دوں اور پھر اعلان کروں۔احمدی احباب مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ میں دو تین ماہ تک اسی حالت میں رہوں اور اس کے بعد بیعت کروں لیکن میں چاہتا ہوں کہ حق اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ہے اور میں بیعت کرلوں۔آپ کو حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ کی قلم سے حضور علیہ السلام کا جواب ملا کہ احمدی احباب کا مذکورہ مشورہ صحیح نہیں۔کیونکہ اپنے نفس کا حق اپنے اوپر دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے اپنی اصلاح دوسروں کی اصلاح سے مقدم ہوتی ہے۔پس آپ فورا بیعت کا اعلان کر دیں اور استعفاء کے متعلق خیال صحیح نہیں۔شریعت کا حکم ہے۔الا قَامَةُ فِيمَا أَقَامَ اللهُ اور اگر کوئی اس کے خلاف کرتا اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے گزارہ کو خود چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میں نے دیا تھا وہ تم نے چھوڑ دیا۔اب تم خود اپنے لئے کچھ کرو اور انسان ابتلاء میں پڑ جاتا ہے لیکن اگر خدا خود چھڑا دیتا ہے تو پھر وہ خود کفیل ہوتا اور اس کے لئے کوئی صورت نکال دیتا ہے۔پس آپ استعفاء مت دیں اور جب وہ نکال دیں گے تو اللہ تعالیٰ کوئی اور انتظام کر دے گا۔آپ کا اعلان بیعت ظہر کی نماز پڑھ کر آپ حنفی طریق پر ہاتھ اٹھا کر دعا اللهُمَّ انْتَ السَّلَامُ پڑھ رہے تھے کہ کسی نے حضور کا مذکورہ خط آپ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔پہلا لفظ یہ تھا کہ آپ فوراً بیعت کا اعلان کر دیں۔آپ نے اتنا پڑھ کر اگلا حصہ پڑھے بغیر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ میری بیعت کی قبولیت کا خط قادیان سے آ گیا ہے اور آج سے میں احمدی ہو گیا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگوں نے میری امامت میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان میں